ٹرمپ نے ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کو برطرف کر دیا

جیمز کومی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وفاقی تفتیشی ادارے ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومی کو برطرف کر دیا ہے۔

امریکی ایوانِ صدر کے ایک بیان میں کہا گیا: 'آج صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ نے ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومی کو مطلع کیا کہ انھیں ان کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا ہے۔'

یہ غیرمتوقع قدم اس وقت اٹھایا گیا ہے جب یہ واضح ہوا تھا کہ کومی نے گذشتہ ہفتے کانگریس کو ہلیری کلنٹن کی ای میلز کے بارے میں غلط معلومات دی تھیں۔

شکست کے ذمہ دار ایف بی آئی کے ڈائریکٹر:

٭ ہلیری کی ای میلز کی تحقیقات: ’ایف بی آئی چیف نے شاید قانون توڑا ہے‘

٭ ہلیری کی ٹیم کا ایف بی آئی پر ’دوہرے معیار‘ کا الزام

وائٹ ہاؤس نے بتایا ہے کہ کومی کو امریکی اٹارنی جنرل جیف سیشنز کی سفارش پر برخاست کیا گیا ہے۔

کومی اس وقت ٹرمپ کے بطورِ صدر انتخاب میں روسی کے مبینہ کردار کے بارے میں تفتیش کر رہے تھے۔

وائٹ ہاؤس نے کہا کہ ان کے جانشین کی تلاش فوری طور پر شروع کر دی جائے گی۔

صدر ٹرمپ نے ایک خط لکھ کر کومی سے کہا کہ 'آپ بیورو کو موثر طریقے سے چلانے سے قاصر رہے ہیں۔'

ہلیری کلنٹن نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ہاتھوں اپنی انتخابی شکست کا ذمہ دار جیمز کومی کو قرار دیا تھا۔

ایف بی آئی کے ڈائریکٹر نے انتخابی مہم کے دوران دو بار مداخلت کی تھی۔ ایک بار جولائی میں اور دوسری بار ووٹنگ سے صرف چند ہفتے قبل اکتوبر 2016 میں۔ اس دوران انھوں نے ہلیری کلنٹن کے نجی ای میل سرور کی چھان بین کرنے کا اعلان کیا تھا۔

کومی نے گذشتہ ہفتے امریکی قانون سازوں کو بتایا تھا کہ کلنٹن کی مشیر ہما عابدین کو سینکڑوں اور ہزاروں خفیہ ای میلیں اور اپنے اس وقت کے خاوند کو فارورڈ کی تھیں۔

تاہم تفتیشی افسران نے منگل کو بتایا کہ وہ صرف چند ای میلز تھیں اور ان میں سے بیشتر خفیہ نہیں تھیں۔

56 سالہ کومی کی تعیناتی چار برس قبل ہوئی تھی اور بطور ڈائریکٹر ان کے عہدے کی میعاد چھ مزید برسوں تک تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ہلیری کلنٹن نے اپنی حیران کن شکست کا باعث جیمز کومی کو قرار دیا تھا

تاہم ڈیموکریٹ پارٹی کا اراکین کا کہنا ہے کہ جیمز کومی کو اس لیے نکالا گیا ہے کہ ایف بی آئی ٹرمپ کی انتخابی مہم کے روس کے ساتھ تعلقات کے بارے میں تفتیش کر رہی تھی۔

سینیٹ میں ڈیموکریٹ پارٹی کے رہنما چک شومر نے ایک اخباری کانفرنس سے بات کرتے ہوئے کہا: 'کیا یہ تفتیش صدر کے کچھ زیادہ ہی قریب پہنچ رہی تھی؟ یہ سب محض اتفاق نہیں ہو سکتا۔'

اس واقعے کا موازنہ سابق صدر رچرڈ نکسن سے کیا جا رہا ہے جب انھوں نے اپنے اٹارنی جنرل کو برخاست کر دیا تھا، جس کے بعد ان کی صدارت مزید طوفانوں میں گھر گئی تھی۔

تاہم صدر ٹرمپ روسی الزامات کو 'جعلی خبریں' کہہ کر مسترد کرتے چلے آئے ہیں۔

اسی بارے میں