پارلیمان میں بچے کو اپنا دودھ پلانے والی پہلی سیاست دان

لاریسا واٹرز تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

آسٹریلیا کی خاتون سینیٹر لاریسا واٹرز پہلی سیاست دان بن گئی ہیں جنھوں نے پارلیمان میں اپنی شیرخوار بچی کو اپنا دودھ پلایا ہے۔

بائیں بازو کی جماعت گریننز پارٹی کی رہنما لاریسا واٹرز نے منگل کو سینیٹ کے اجلاس کے دوران اپنی دو ماہ کی بیٹی کو اپنا دودھ پلایا۔

آسٹریلیا کے ایوان زیریں نے گذشتہ ماہ چھاتی کا دودھ پلانے کی اجازت دی تھی تاہم منگل سے پہلے کبھی کسی رکن پارلیمان نے بچے کو دودھ نہیں پلایا تھا۔

لاریسا واٹرز نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک پر ایک پیغام میں کہا:' ہمیں پارلیمان میں مزید خواتین اور والدین کی ضرورت ہے اور ہمیں کام کرنے کی ایسی جگہ ی ضرورت ہے جو زیادہ خاندان دوست، بچوں کی نگہداشت میں کفایت شعار اور لچکدار ہو۔'

لیبر پارٹی کی سینیٹر کیٹی گیلیگر نے سکائی نیوز آسٹریلیا کو بتایا کہ' یہ ایسا لمحہ ہے جس کا اقرار کیا جانا چاہیے۔ خاتون کے ہاں بچے پیدا ہوں گے اور اگر وہ ملازمت کرنا چاہتی ہیں تو کام کے دوران اپنے بچے کی دیکھ بھال کرنا چاہتی ہیں۔۔۔تو حقیقت یہ ہے کہ ہم اس کی گنجائش دینے جا رہے ہیں۔'

گذشتہ برس تک ایوان زیریں میں رکن پارلیمان اپنے بچوں کو ایوان میں یا پبلک گیلری میں ساتھ لا سکتے تھے جبکہ سینیٹ میں 2003 سے بچوں کو چھاتی کا دودھ پلانے کی اجازت دی گئی تھی۔

دنیا بھر کے ایوانوں میں یہ ایک حساس معاملہ رہا ہے۔

2016 میں سپین کی پارلیمان میں کیرولینا بیسکانسا کو ایوان میں اپنے بچے کو لانے اور چھاتی کا دودھ پلانے پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اسی بارے میں