جب بیٹا مر کر بھی زندہ رہا

تصویر کے کاپی رائٹ REG GREEN

29 ستمبر سنہ 1994 کی رات سات سالہ نکولس گرین کو جنوبی اٹلی میں اس وقت گولی مار دی گئی جب وہ اپنے خاندان کے ساتھ وہاں چھٹیاں گزار رہے تھے۔

نکولس گرین کی موت ان کے والدین ریگ اور میگی کے لیے ایک صدمہ تھی تاہم ان کے اپنے بیٹے کے اعضا کو عطیہ کرنے کے فیصلے نے اٹلی میں اعضا کے عطیے کی شرح میں ایک دہائی کے دوران تین گنا اضافہ کر دیا۔

انسانی اعضا کے غیرقانونی تاجر سے ملاقات جو پناہ گزینوں کا شکار کرتا ہے

مصر: انسانی اعضا کی سمگلنگ میں ملوث گروہ گرفتار

ریگ گرین اس رات کو یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں جب نامعلوم افراد نے ان کے بیٹے کو جنوبی اٹلی کے علاقے میں گولی ماری۔

'مجھے پہلی بار اس وقت خطرے کا احساس ہوا جب ایک کار ہمارے کافی قریب آئی اور وہاں کچھ لمحے کے لیے رکی۔ کچھ دیر بعد اس گاڑی نے ہمیں اوورٹیک کرنا شروع کیا جس پر میں یہ سوچ کر مطمئن ہو گیا کہ وہاں کچھ غلط نہیں ہوا۔'

لیکن اس گاڑی نے اوور ٹیک کی بجائے ریگ اور میگی کی گاڑی کے برابر چلنا شروع کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ REG GREEN

ریگ اور میگی نے دوسری گاڑی سے غصے بھری آوازیں سنیں اور انھوں نے یہ فرض کیا کہ اس گاڑی میں موجود افراد انھیں روکنا چاہتے ہیں۔

ریگ گرین کا کہنا تھا 'میں نے سوچا کہ اگر ہم نے اپنی گاڑی روک دی تو ہم مکمل طور پر ان کے رحم و کرم پر ہوں گے چنانچہ میں نے گاڑی کی رفتار بڑھا دی اور انھوں نے بھی ایسا ہی کیا۔ پھر ہماری گاڑی کے پچھلے شیشے کو توڑتے ہوئے ایک گولی اندر آئی۔‘

میگی نے مٹر کر پچھلی سیٹ پر دیکھا تو دونوں بچے بظاہر گہری نیند سو رہے تھے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Mongiardo family

88 سالہ گرین کے مطابق 'میں نے گاڑی روک دی اور باہر آیا۔ گاڑی کی اندرونی بتی باہر نکل چکی تھی تاہم نکولس اپنی جگہ سے نہیں ہلے۔ میں نے قریب جا کر دیکھا تو ان کی زبان تھوڑی سی باہر نکلی ہوئی تھی اور ان کی ٹھوڑی پر الٹی تھی۔ ہمیں پہلی بار اس بات کا احساس ہوا کہ کچھ خوفناک ہوا ہے۔ نکولس کو اس حالت میں دیکھنا میری زندگی کا سب سے افسوس ناک لمحہ تھا۔'

ایک امریکی خاندان کی چھٹی ایک بھیانک خواب میں بدل گئی۔

نکولس کا کومے میں رہنے کے چند دن بعد ہسپتال میں انتقال ہو گیا تاہم اس سے پہلے نکولس کے والدین نے ان کے اعضا کو عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا جس نے اٹلی میں سات خاندانوں کی زندگیوں کو بدل کر رکھ دیا۔

ریگ گرین کا کہنا ہے کہ ملزمان اٹلی میں بچوں کو شازو نادر ہی مارتے ہیں کیونکہ اس سے پولیس قاتلوں کو پکڑنے کا تعین کرتی ہے اور نکولس کے کیس کے ساتھ ایسا ہی ہوا۔

پولیس کی تفتیش کے نتیجے میں دو افراد فرانسیسکو میسیانو اور مائیکل اینلالو کو گرفتار کیا گیا اور سزا دی گئی۔

ابھی یہ واضح نہیں کہ دونوں افراد ڈاکو تھے یا ہِٹ مین جنھوں نے غلط گاڑی پر حملہ کیا تاہم گرین کے خیال میں حقیقت یہ ہے کہ کہ ان میں سے ایک کا اٹلی کے مافیا کے ساتھ کنکشن ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reg Green

ریگ گرین کا کہنا ہے کہ اٹلی میں ایک بے گناہ بچے کو چھٹیاں منانے کے دوران مارنے کے تصور نے متعدد اطالویوں کو شرمندہ کر دیا۔ اس سے انھیں یہ خیال آیا کہ وہ انسانی اعضا عطیہ کر کے اس کا ازالہ کر سکتے ہیں۔

اٹلی میں سنہ 1993 تک ہر دس لاکھ افراد میں سے 6.2 افراد اپنے اعضا عطیہ کرتے تھے تاہم سنہ 2006 تک یہ تعداد بڑھ کر ہر دس لاکھ میں سے 20 تک پہنچ گئی۔

اٹلی میں سنہ 1999 میں ایک آپٹ آؤٹ سسٹم اپنایا گیا جس کے تحت یہ سمجھا جانے لگا کہ اٹلی میں جب بھی کوئی مرے گا تو وہ اپنے اعضا کو عطیہ کرے گا۔

اٹلی کے علاوہ فرانس، یونان، پرتگال اور سپین میں یہ آپٹ آؤٹ سسٹم استعمال کیا گیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں