شام میں دفاعی اہمیت کا حامل قصبہ طبقہ دولتِ اسلامیہ سے آزاد کروا لیا گیا ہے

طبقہ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption طبقہ پر قبضے کے لیے کئی ہفتوں سے جنگ جاری تھی

شامی کردوں اور عرب جنگجوؤں کے ایک اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے شام میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ دفاعی اہمیت کا حامل قصبہ آزاد کروا لیا ہے۔

سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) نے کہا ہے کہ انھوں نے دولتِ اسلامیہ کے مرکز رقہ سے 40 کلومیٹر دور واقع طبقہ نامی قصبے اور اس سے ملحقہ ڈیم کو 'مکمل طور پر آزاد' کروا لیا ہے۔

یہ اعلان امریکہ کی جانب سے اس فیصلے کے ایک دن بعد آیا ہے کہ امریکہ ایس ڈی ایف کے ساتھ مل کر لڑنے والی کرد جنگجو تنظیم وائی پی جی کو دفاعی سامان اور اسلحہ دے گا۔

٭ امریکہ دولتِ اسلامیہ سے لڑنے کے لیے کردوں کو اسلحہ دے گا

ترکی اس فیصلے پر برہم ہے۔ وہ وائی پی جی کو ممنوعہ کرد تنظیم پی کے کے کی توسیع سمجھتا ہے، جو گذشتہ تین دہائیوں سے ترکی سے علیحدگی کی جنگ لڑ رہی ہے۔

صدر رجب طیب اردوغان نے کہا ہے کہ جہادیوں کے ساتھ جنگ میں 'ایک اور دہشت گرد تنظیم' کو نہیں شامل کرنا چاہیے۔

تاہم امریکہ کو اس سے اختلاف ہے اور اس کا اصرار ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے گڑھ رقہ پر قبضے کے لیے وائی پی جی ضروری ہے۔

وائی پی جی ایس ڈی ایف کے اتحاد کی قیادت کرتا ہے جس نے گذشتہ دو برسوں میں شمالی شام میں شدت پسندوں کے قبضے سے چھ ہزار کلومیٹر کا علاقہ آزاد کروا لیا ہے۔ اس دوران اسے امریکی فضائی حملوں کی امداد حاصل رہی ہے۔

اس سے قبل پینٹاگان ایس ڈی ایف کے عرب عناصر کو اسلحہ فراہم کر چکا ہے۔

وائی پی جی کے ترجمان رید الخلیل نے کہا کہ امریکی فیصلہ دولتِ اسلامیہ سے لڑنے والی تمام تنظیموں کو تقویت دے گا، تاہم اسے آتے آتے 'کسی قدر تاخیر ہو گئی ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایس ڈی ایف کے جنگجوؤں نے شام میں دولتِ اسلامیہ کے قبضے سے چھ ہزار مربع کلومیٹر کا علاقہ خالی کروا لیا ہے

بی بی سی ورلڈ سروس کے مشرقِ وسطیٰ کے ایڈیٹر ایلن جانسٹن کہتے ہیں کہ اگر ایس ڈی ایف کا طبقہ پر قبضے کا دعویٰ درست ہے تو اس سے رقہ جانے کے لیے اہم راستہ کھل جائے گا۔

اس قصبے میں کئی ہفتوں سے شدید جھڑپیں جاری ہیں اور دولتِ اسلامیہ کے خودکش حملہ آور اور نشانہ باز سخت مزاحمت کر رہے ہیں۔

وہ قصبے کے شمالی علاقے اور قریبی ڈیم میں چھپے ہوئے ہیں۔ اس سے قبل اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا تھا کہ اگر اس ڈیم کو نقصان پہنچا تو علاقے میں سیلاب آ سکتا ہے۔

ایس ڈی ایف کے ترجمان طلال سیلو نے تسلیم کیا کہ قصبے کو مکمل طور پر محفوظ بنانے کے لیے تلاشی کی کارروائیاں جاری ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں