’موگابے سو نہیں رہے، آنکھوں کو آرام دے رہے ہوتے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صدر موگابے اگلے سال ہونے والے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

زمبابوے کے صدر رابرٹ موگابے کے ترجمان نے کہا ہے کہ جب صدر آنکھیں بند کیے نظر آتے ہیں تو وہ دراصل سو نہیں رہے ہوتے بلکہ اپنی آنکھوں کو آرام دے رہے ہوتے ہیں۔

سرکاری اخبار ہیرلڈ میں شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں جارج چارامبا نے کہا کہ صدر تیز روشنیاں برداشت نہیں کر سکتے۔

ترانوے سالہ صدر موگابے کو اکثر تقریبات پر بظاہر سوتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ جس کے بعد ان کی صحت کے بارے میں قیاس آرائیاں شروع ہو گئی ہیں۔

صدر موگابے اگلے سال ہونے والے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اسی ماہ جنوبی افریقہ میں عالمی اقتصادی فورم کے کمزور ریاستوں کے بارے میں ایک مباحثے کے دوران بظاہر سو گئے تھے۔ وہاں انہوں نے یہ بھی کہا کہ زمبابوے افریقہ کے سب سے زیادہ ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہے۔

مسٹر چارامبا نے کہا کہ 'جب میں یہ دیکھتا ہوں کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ صدر سو رہے ہیں تو مجھے اپنا آپ ناکام نظر آتا ہے۔۔ نہیں۔'

انہوں نے پھر صدر موگابے کا موازنہ نسلی تعصب کے خلاف لڑنے والے جنوبی افریقی لیڈر نیلسن منڈیلا سے کیا جن کی آنکھیں روبن آئی لینڈ پر قید کے دوران لائمسٹون کی کانوں میں کام کرنے سے بہت متاثر ہوئی تھیں، اور کہا کہ 'جب منڈیلا کمرے میں ہوتے تھے تو آپ وہاں فلیش کا استعمال بھی نہیں کر سکتے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں