دولت اسلامیہ کے طریقہ کار میں تبدیلی، کارٹونوں کا استعمال

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اپنے آپ کو دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کی جانب سے پروپیگنڈہ کے طریقوں میں ریڈیو سٹیشن، رسالہ، ویڈیوز اور فوٹوز ہیں۔ تاہم سال کے آغاز پر پیغامات کے لہجے میں کچھ تبدیلی آئی۔ نئے طریقوں سے پروپیگنڈہ کرنے کے طریقوں میں سے ایک ہے کارٹون۔

ایم میسجنگ ایپلیکیشن ٹیلیگرام پر اس سال کے آغاز پر ایک چینل شروع کیا گیا۔ اگرچہ یو ٹیوب پر یہ چینل اب نہیں چلتا لیکن اس چینل میں کارٹون کے ذریعے اپنے پیغامات پہنچانے کا آغاز کیا گیا۔ یہ طریقہ پرانے طریقے سے کافی مختلف ہے کیونکہ پہلے دولت اسلامیہ بہیمانہ تصاویر کے ذریعے اپنے پیغامات لوگوں تک پہنچاتی تھی۔

ایک کارٹون فلم بچوں کے لیے تھی جس کا نام 'دا رولر اینڈ دی بریو' تھا۔ اس فلم کی کہانی اس ظالم رہنما کے بارے میں تھی جس سے اس کی عوام تنگ آ چکی تھی۔ ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ اس ملک کا قائد لوگوں کو ان دلیر افراد کے بارے میں جھوٹے قصے سناتا تھا جنھوں نے اس کے خلاف کھڑے ہونے کی جرات کی۔ اور یہ دلیر افراد دولت اسلامیہ کے جنگجو تھے۔

ٹیلیگرام

گذشتہ دو سالوں سے دولت اسلامیہ اور اس کے حمایتیوں کو سوشل میڈیا پر پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ٹیلیگرام نامی میسجنگ ایپ نے ماضی میں دولت اسلامیہ کے چینلز کو بند کرنے کی کوششیں کیں۔

ٹیلیگرام کے ماہانہ 10 کروڑ صارف ہیں اور اس میں بہت سے گروپ پرائیوٹ ہیں۔ ٹیلیگرام کی سکیورٹی فیچرز کی وجہ سے شدت پسندانہ مواد کی نشاندہی مشکل ہو جاتی ہے۔ فیس بک اور ٹویٹر جیسے بڑے پلیٹ فارمز پر بہیمانہ فوٹوز اور ویڈیوز چند دنوں ہی میں ہٹا دی جاتی ہیں۔

سال کے آغاز پر دولت اسلامیہ کے حق میں ٹیلیگرام کے چینل پر کارٹون اپ لوڈ ہونے شروع ہوئے جن میں شدت پسند تنظیم کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا۔ یہ کارٹون مارچ میں یو ٹیوب پر بھی شیئر کیے گئے اور مئی کے کچھ دنوں تک رہے۔ لیکن اس کو اس وقت بند کر دیا گیا جب بی بی سی نے یو ٹیوب کو اس حوالے سے مطلع کیا۔

کارٹونز

وائرڈ میگزین کے برینڈن کورنر کا کہنا ہے کہ اگرچہ تصاویر کے مقابلے میں بہیمانہ کارٹونز کی نشاندہی پر دیر لگتی ہے لیکن یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کارٹونز کا استعمال اس لیے کیا جا رہا ہو کہ دولت اسلامیہ کے کنٹرول میں علاقوں سے ویڈیو اور تصاویر کی فراہمی کم ہو گئی ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ Telegram
Image caption کارٹون فلم 'انشاء اللہ جلد' میں دولت اسلامیہ کا جنگجو وائٹ ہاؤس کو کالا رنگ کر رہا ہے۔ اس قسم کے کارٹون سوشل میڈیا پر سے اتارنے مشکل ہیں کیونکہ بہیمانہ تصویر کے مقابلے میں ان کی نشاندہی مشکل ہے

انھوں نے بی بی سی ٹرینڈنگ سے بات کرتے ہوئے کہا 'شکستوں کے بعد دولت اسلامیہ کی جانب سے ویڈیو اور تصاویر کی فراہمی کی صلاحیت کم ہو گئی ہے۔ وہ اب دوسرے ممالک میں موجود ان کے حمایتیوں کی جانب دیکھ رہے ہیں کہ وہ مواد انٹرنیٹ پر ڈالیں۔'

کارٹونز کے علاوہ چینل کے ممبران SupportEtiquette# کا ہیش ٹیگ استعمال کرتے ہیں اور مشورہ دیتے ہیں کہ دولت اسلامیہ کے نظریے پر بحث کرتے ہوئے شائستہ زبان استعمال کریں۔

برینڈن کورنر کا کہنا ہے 'دولت اسلامیہ کو اپنے حمایتیوں کو بڑھانے کے لیے نئے طریقے استعمال کرنے پڑ رہے ہیں۔ اس کا ایک حصہ ہے کہ ایک ایسا تاثر دیا جائے کہ دولت اسلامیہ ایک فعال حکومت ہے اور بنیادی سہولیات اور انصاف مہیا کرتی ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ 4Chan

چینل کے پیچھے کون ہے؟

جس طریقے سے چینل پر کی جانے والی پوسٹس اور جس طرح سے ممبران اس کے ایڈمنسٹریٹر کو مخاطب کرتے ہیں اس سے لگتا ہے کہ اس چینل کی ایڈمنسٹریٹر ایک خاتون ہیں اور ممکنہ طور پر مصری۔

اس چینل پر موجود مواد کا ٹیلیگرام سے باہر بھی اثر پڑتا ہے۔ اس مواد کو دولت اسلامیہ کے ہائی پروفائل حمایتی اس کو شیئر کرتے ہیں۔

بندش

بی بی سی کی جانب مطلع کیے جانے کے بعد یو ٹیوب نے چینل کو بند کر دیا۔ تاہم ٹیلیگرام نے تبصرہ نہیں کیا۔

مارچ میں ایک بلاگ میں ٹیلیگرام کے ترجمان نے کہا کہ نیٹ ورک شدت پسند مواد کے خلاف کارروائی کر رہا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں