اسرائیل میں ’14 سال گھر میں بند‘ رہنے والا لڑکا آزاد کروا لیا گیا

اسرائیلی اپارٹمنٹ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پولیس نے کہا ہے کہ اسرائیل میں ایک 14 سالہ لڑکے کو آزاد کروا لیا گیا ہے جسے اطلاعات کے مطابق اس کے والدین نے پیدائش کے بعد سے گھر کے اندر بند رکھا ہوا تھا۔

آرمی ریڈیو نے بتایا ہے کہ لڑکے نے پولیس کو بتایا ہے کہ اسے مہینے میں ایک یا دو بار حیدرہ قصبے میں واقع عمارت کے صحن تک لے جایا جاتا تھا۔

اس کے علاوہ بعض اوقات اسے اپارٹمنٹ کے باہر ایک عارضی پنجرے میں بھی رکھا جاتا تھا۔

والدین کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جنھوں نے پولیس کو بتایا کہ لڑکے کو اس کی صحت کے بارے میں تشویش کی وجہ سے بند رکھا گیا تھا۔

ہمسائیوں نے مقامی بلدیہ میں شکایت درج کروائی تھی کہ اس اپارٹمنٹ سے بدبو آتی ہے۔

ایک ہمسائے نے آرمی ریڈیو کو بتایا کہ انھوں نے کھڑکی سے لڑکے کو دیکھنے کے بعد حکام کو مطلع کیا۔ وہ 'ڈراؤنی فلموں کا زامبی لگتا تھا۔'

چیکو واکنن نے کہا: 'میں نے اس کی آنکھیں دیکھیں، جس طرح وہ دیکھ رہا تھا، تو ان میں 'مدد' لکھا ہوا تھا۔ اس لیے میں نے کچھ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔'

لڑکے کے والدین روسی نژاد ہیں اور ان کی عمریں 60 برس کے قریب ہیں۔ وہ 2009 میں تل ابیب کے شمال میں واقع حیدرہ میں آ بسے تھے، لیکن انھوں نے نہ تو مقامی حکام کو بتایا کہ ان کا کوئی لڑکا بھی ہے اور نہ ہی اسے سکول میں داخل کروایا۔

مقامی میڈیا کے مطابق لڑکے کی ماں کے وکیل نے کہا کہ وہ 'لڑکے کو تحفظ فراہم کرنا چاہتے تھے جس کی صحت خراب تھی۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں