ڈنمارک: امام مسجد پر یہودیوں کے خلاف تشدد پر اکسانے کا الزام

تصویر کے کاپی رائٹ Memri
Image caption خطبہ جمعہ کے دوران ایک ایسا بیان کرتے ہوئے فلمایا گیا تھا جسے یہود مخالف مانا جاتا ہے

ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں مسجد کے ایک امام کی اس ویڈیو پر غم و غصہ پایا جاتا ہے جس میں امام نے خطبہ جمعہ کے دوران یہودیوں کو قتل کرنے کی بات کی۔

اس سلسلے میں امام منظر عبداللہ کے خلاف پولیس میں شکایت درج کی گئی ہے۔

انھیں خطبہ جمعہ کے دوران ایک ایسا بیان کرتے ہوئے فلمایا گیا تھا جسے یہود مخالف مانا جاتا ہے۔

یہودی برادری کے ایک رہنما نے اس کے رد عمل میں کہا کہ ان کے الفاظ ایک دھمکی ہے۔

الفاروق نامی مسجد نے اتوار کے روز اس مذکورہ خطبہ جمعہ کو یوٹیوب اور فیس بک جیسی سماجی ویب سائٹس پر پوسٹ کیا تھا، حالانکہ یہ خطبہ 31 مارچ کو دیا گیا تھا۔

واشگٹن میں واقع 'مڈل ایسٹ میڈیا ریسرچ انسٹی ٹیوٹ' نے تقریباً نصف گھنٹے کے اس خطبے کے بعض حصوں کا بعد میں ترجمہ کیا تھا۔

ویڈیو میں خطیب عبداللہ سیاہ کپڑے کے سامنے کھڑے ہیں، اسی طرح جس طرح کا القا‏عدہ یا دوسرے جہادی گروہ بیک ڈراپ استعمال کرتے ہیں۔

اپنی تقریر کے دوران وہ کہتے ہیں کہ ’جلد ہی خلافت کا قیام ہوگا، یعنی ایسی حکومت جس میں شرعی قوانین کی بالا دستی ہوگی، وہ مسلمان برادری کے اتحاد کے لیے جہاد کرے گی اور یرو شلم کی مسجد اقصیٰ کو سیہونی غلاظت سے آزاد کرائے گی۔'

یہودی کمیونٹی کے ایک مقامی رہنما ڈین روزبرگ نے مقامی اخبار کو بتایا: 'ہمیں تشویش ہے کہ کمزور اور جلدی جھانسے میں آجانے والے افراد اس طرح کی تبلیغ کو یہودیوں کے خلاف تشدد اور دہشت گردی کا کھلا پیغام سمجھ سکتے ہیں۔'

قومی یکجہتی اور امیگریشن سے متعلق وزیر اینگر سٹوب برگ نے بھی اس پر غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔

انھوں نے فیس بک پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا: 'یہ پوری طرح سے احمقانہ، غیر جمہوری اور خوفناک بات ہے۔'

ملک کی دائیں بازو کی جماعت کے ایک سیاسی رہنما نے بھی اس سے متعلق فیس بک پر اپنے ایک رد عمل میں لکھا ہے کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ 'ہمیں کیوں ایک سخت اور مستقل پالیسی پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم اسے قبول نہیں کر سکتے اور ہمیں ایسا کرنا بھی نہیں چاہیے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں