پاکستانی ڈاکٹر برطانیہ کی نئی ’ماسٹر شیف‘

ڈاکٹر صالحہ محمود احمد تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption ڈاکٹر صالحہ آنتوں اور معدے کے امراض کی سپیشلسٹ ہیں لیکن کھانے پکانے اور موٹاپے کو کنٹرول کرنے جیسے موضوعات پر کتابیں لکھنا ان کا خواب ہے

ایک پاکستانی ڈاکٹر نے اپنے وطن کی ثقافت اور ورثے سے تحریک لیتے ہوئے 'ایسٹ میٹس ویسٹ' کے مینیو پر مبنی بی بی سی کا 'ماسٹر شیف' مقابلہ جیت لیا ہے۔

29 سالہ ڈاکٹر صالحہ محمود احمد نے جو انگلینڈ کے علاقے واٹفرڈ میں رہتی ہیں، اس مقابلے میں جیوانا رائن اور سٹیو کیئلٹی کو شکست دی۔

انھوں نے کہا کہ وہ اپنے کھانے پکانے کے شوق اور میڈیکل کیریئر میں اشتراک سے موزوں ترین غذا تلاش کر کے ان افراد کی مدد کرنا چاہتی ہیں جنھیں خاص قسم کی خوراک کھانے سے امراض لگ جاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption 29 سالہ ڈاکٹر صالحہ محمود احمد نے جو انگلینڈ کے علاقے واٹفرڈ میں رہتی ہیں، اس مقابلے میں جیوانا رائن اور سٹیو کیئلٹی کو شکست دی

ڈاکٹر صالحہ نے جو ایک بچے کی ماں ہیں، بی بی سی کی جانب سے منعقد کیے جانے والے مقابلے میں کھانا بنانے کے 64 شوقین افراد کو ہرایا۔ اس مقابلے میں انھوں نے اپنی آن کال شفٹوں کو ساتھیوں کے ساتھ تبدیل کیا تاکہ وہ مقابلے میں شریک رہ سکیں۔

ڈاکٹر صالحہ آنتوں اور معدے کے امراض کی سپیشلسٹ ہیں لیکن کھانے پکانے اور موٹاپے کو کنٹرول کرنے جیسے موضوعات پر کتابیں لکھنا ان کا خواب ہے۔

اپنی جیت پر انھوں نے کہا 'ماسٹر شیف چیمپیئن بننا زبردست ہے۔ تعریفی الفاظ اس خوشی کو بیان نہیں کرسکتے۔ میں نے اپنی زندگی میں سب سے بہترین کام یہی کیا ہے۔'

'اس میں بہت محنت شامل تھی۔ مجھے بہت جلدی کام شروع کرنا پڑتا تھا اور 13، 13 گھنٹوں کی شفٹوں کے بعد دیر گئے کھانے بنانے ہوتے تھے۔ اس بیچ نہ چھٹی ملتی تھی نہ نیند پوری ہوتی تھی لیکن یہ سب کچھ کرنے کا فائدہ ہی ہوا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption صالحہ کو کھانے پکانے کا شوق اپنے خاندان کی وجہ سے پڑا۔ ان کی ایک استانی نے بھی اس سلسلے میں ان کی حوصلہ افزائی کی اور 15 برس کی عمر میں انھیں 'شیف آف دی ایئر' کے مقابلے میں شامل کیا جو صالحہ نے جیت لیا

جمعہ کی رات بی بی سی ون پر فائنل مقابلے میں تین امیدواروں کو تین حصوں پر مشتمل کھانا تین گھنٹوں میں تیار کر کے ججز کو چکھنے کے لیے دینا تھا۔

جج گریگ ویلس نے صالحہ کے بنے ہوئے کھانے کی تعریف کرتے ہوئے کہا 'مشرق و مغرب کا امتزاج' اور 'حیران کن پلیٹ پر فن کی خوبصورت تصویر۔'

جج جون ٹوروڈ نے کہا 'صالحہ یہاں آئیں اور انھوں نے اپنے کھانے پینے کی ثقافت کو اجزا میں تقسیم کیا اور پھر انھیں جدید اور انتہائی زبردست انداز کے ساتھ پھر سے یکجا کر دیا۔'

صالحہ کو کھانے پکانے کا شوق اپنے خاندان کی وجہ سے پڑا۔ ان کی ایک استانی نے بھی اس سلسلے میں ان کی حوصلہ افزائی کی اور 15 برس کی عمر میں انھیں 'شیف آف دی ایئر' کے مقابلے میں شامل کیا جو صالحہ نے جیت لیا۔

'میرا تعلق ایک بڑی پاکستانی فیملی سے ہے اور ہم کھانوں کے ذریعے لوگوں کو یکجا کرتے ہیں۔ میری دادی اور نانی بڑی جذباتی تھیں اور روایتی پاکستانی کھانے پکاتی تھیں۔ میری امی بھی بہت اچھا کھانے پکاتی ہیں۔ ہمیں لوگوں کو کھانا کھلانا اچھا لگتا ہے۔ یہ ہمارے جینز میں ہے۔'

متعلقہ عنوانات