کومی کی برطرفی: اگر کوئی ٹیپس نہیں تو ٹرمپ کو ’معافی‘ مانگی چاہیے

صدر ٹرمپ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption صدر ٹرمپ نے گذشتہ ہفتے ایف بی آئی کے ڈائرکٹر کو ان کے عہدے سے برطرف کر دیا

سینیئر امریکی قانون سازوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کہا ہے کہ ایف بی آئی کے برطرف شدہ ڈائریکٹر جیمز کومی کے ساتھ ہونے والی بات چیت کی کوئی ریکارڈنگز ہیں تو اانھیں سامنے لایا جائے۔

سینیٹ میں ڈیموکریٹ رہنما چارلز شومر نے متنبہ کیا ہے کہ کسی بھی ٹیپ کا ضائع کیا جانا قانون توڑنے کے مترادف ہے۔

سینیٹ میں ریپبلکن رہنما لنڈسے گراہم نے کہا کہ وائٹ ہاؤس کو 'بدگمانی دور کرنی چاہیے' کہ آیا کوئی ٹیپ ہے یا نہیں۔

٭ ’ٹرمپ شروع ہی سے کومی کو برطرف کرنا چاہتے تھے‘

٭ میں جانتا ہوں کہ میں زیرِ تفتیش نہیں ہوں: ڈونلڈ ٹرمپ

یہ بیانات صدر ٹرمپ کی اس ٹویٹ کے بعد آئے ہیں جس میں انھوں نے بظاہر ایف بی آئی کے سابق سربراہ کو دھمکی دی ہے۔

انھوں نے گذشتہ ہفتے جیمز کومی کو میڈیا سے دور رہنے کا مشورہ دیا تھا اور کہا تھا کہ انھیں امید ہے کہ 'ان کے درمیان ہونے والی بات چيت کی کوئی ٹیپ نہیں ہے۔'

خیال رہے کہ وائٹ ہاؤس نے کسی ٹیپ کی موجودگی کے بارے میں نہ تو تصدیق کی ہے اور نہ ہی انکار کیا ہے۔

مسٹر شومر نے خبردار کیا ہے کہ ایف بی آئی کے نئے ڈائریکٹر کے متعلق سینیٹ کے ڈیموکریٹس اس وقت تک ووٹ نہیں دیں گے جب تک کہ امریکی انتخابات میں مبینہ روسی مداخلت کے بارے میں جانچ کرنے کے لیے مخصوص پراسیکیوٹر کی نامزدگی نہیں ہوتی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سینیٹر چارلز شومر اور لنڈسے گراہم نے کہا ہے کہ اگر کوئی ٹیپ ہے تو اسے سامنے لایا جانا چاہیے

ایف بی آئی ماسکو اور ٹرمپ کی انتخابی مہم کے درمیان ممکنہ روابط کے الزامات کی جانچ کر رہی ہے۔

مسٹر ٹرمپ ایسے کسی روابط سے انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مسٹر کومی نے انھیں یقین دلایا ہے کہ ان کی جانچ نہیں ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے مسٹر کومی کو اس لیے برطرف کیا کہ وہ اچھی طرح سے کام نہیں کر رہے تھے۔

جبکہ ڈیموکریٹس نے مسٹر کومی کی برطرفی کے لیے صدر ٹرمپ پر الزام لگایا ہے کہ وہ ایف بی آئی کی جانچ کو روکنا چاہتے ہیں۔

مسٹر شومر نے سی این این سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی ٹیپ ہے تو 'صدر کو چاہیے کہ اسے فورا پیش کریں۔ ان کا ضائع کیا جانا قانون کی خلاف ورزی ہوگی۔'

انھوں نے مزید کہا: 'اور اگر کوئی ٹیپ نہیں ہے تو انھیں جم کومی اور امریکی عوام کو گمراہ کرنے کے لیے ان سے معافی مانگنی چاہیے۔'

سینیٹر گراہم نے این بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مسٹر ٹرمپ کی ٹویٹ 'نامناسب' تھی اور انھوں نے صدر سے 'پیچھے ہٹنے اور جانچ کرنے والوں کو جانچ کرنے دینے' کی اپیل کی ہے۔

انھوں نے کہا: 'آپ ٹیپ کے بارے میں بھولے نہیں بن سکتے۔ اگر بات چیت کی کوئی ٹیپ ہے تو اسے سامنے لائیں۔'

اسی بارے میں