ترکی کردوں کے ساتھ امریکی اتحاد قبول نہیں کرے گا: اردوغان

ٹرمپ اور اردوغان تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption مشترکہ پریس کانفرنس میں ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے اپنے خیالات کا اظہار کیا

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے واشنگٹن میں مذاکرات کے بعد عندیہ دیا ہے کہ وہ شام میں برسرپیکار کرد فوجیوں کے ساتھ امریکی اتحاد کو کبھی قبول نہیں کریں گے۔

انھوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ خطے کے مستقبل میں دہشت گرد تنظیموں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔

ان کا اشارہ شام کی کرد وائی پی جی ملیشیا کی جانب تھا جس کے متعلق رواں ماہ کے اوائل میں امریکہ نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ انھیں مسلح کیا جائے گا۔

٭ امریکہ دولتِ اسلامیہ سے لڑنے کے لیے مزید فوجی بھیجے گا

٭ ’گولن سے روابط‘ پر ترکی میں نو ہزار پولیس اہلکار برطرف

اس کے باوجود دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کا عہد کیا۔

صدر ٹرمپ نے کہا: ’ہمارے تعلقات بہت اچھے رہے ہیں اور ہم انھیں مزید بہتر کریں گے۔‘

ملاقات کے فوراً بعد وائٹ ہاؤس سے جاری ایک بیان میں صدر ٹرمپ نے 'نیٹو کے اپنے اتحادی ترکی کی سکیورٹی کے متعلق امریکی عہد اور دہشت گردی کی ہر شکل کا مل کر مقابلہ کرنے کی ضرورت کا اعادہ کیا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شام کی زمینی لڑائی میں امریکی فوج کو وائی پی جی کے تعاون کی ضرورت ہے

ترکی وائی پی جی کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے اور شام میں مزید علاقوں پر ان کے قبضے کو روکنا چاہتا ہے۔

مسٹر اردوغان نے منگل کو کہا: وائی پی جی، پی وائی ڈی کو خطے میں پارٹنر خیال کرنا قطعی ناقابل قبول ہے اور یہ ہمارے عالمی معاہدے کے خلاف جاتا ہے۔‘

انقرہ کا کہنا ہے کہ وائی پی جی کالعدم کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کی توسیع ہے اور اس تنظیم کے خلاف وہ جنوب مشرقی ترکی کے علاقے میں گذشتہ کئی دہائیوں سے برسرپیکار ہے۔

جبکہ امریکہ وائی پی جی کو پی کے کے سے الگ اور شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ میں اہم فریق گردانتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption وائی پی جی شام میں برسرپیکار ایس ڈی ایف کا اتحادی ہے

نو مئی کو پینٹاگون نے سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کو مسلح کرنے کا اعلان کیا تھا جس میں وائی پی جی بھی شامل ہے۔ اس میں عرب جنگجو بھی شامل ہیں اور انھیں ایلیٹ امریکی افواج کی حمایت حاصل ہے۔

امریکہ نے یہ فیصلہ دولتِ اسلامیہ کے گڑھ رقہ سے اس کا قبضہ ہٹانے کے لیے کیا ہے۔ ایس ڈی ایف ابھی طبقہ میں برسرپیکار ہے اور یہ دولت اسلامیہ کے گڑھ سے 30 میل کے فاصلے پر ہے۔

صدر اردوغان نے کہا کہ واشنگٹن میں ملاقات کے دوران انھوں نے امریکہ میں مقیم ترک عالم فتح اللہ گولن کا معاملہ بھی اٹھایا ہے۔ انقرہ انھیں گذشتہ جولائی میں تختہ الٹنے کی ناکام کوشش کا ذمہ دار کہتا ہے لیکن گولن اس کا انکار کرتے ہیں۔

ترکی گولن کو ملک بدر کر کے ترکی واپس لانا چاہتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں