انتخابات میں غیر ملکی مداخلت روکنا اختیار میں نہیں: برطانوی الیکٹورل کمیشن

برطانیہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

برطانوی انتخابات کے ذمہ دار ادارے الیکٹورل کمیشن کا کہنا ہے کہ آٹھ جون کو ہونے والے عام انتخابات پر اثرانداز ہونے کی غیر ملکی کوششوں کو روکنے کا ان کے پاس اختیار نہیں ہے۔

الیکٹورل کمیشن کا یہ موقف ان تحفظات کے بعد سامنے آیا ہے کہ کئی غیرملکی کمپنیاں برطانوی رائے دہندگان پر سوشل میڈیا پر بھجوائے گئے پیغامات کے ذریعے اثرانداز ہونے کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔

کہا جا رہا ہے کہ یہ کمپنیاں سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا 'ایڈوانس ڈیٹا تجزیہ' کر کے ووٹرز کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کر رہی ہیں۔

بی بی سی اردو کی جانب سے برطانوی الیکٹورل کمیشن کو بھجوائے گئے سوالات کے جواب میں الیکٹورل کمیشن کے ابلاغ عامہ کے شعبے کے سربراہ بن ولکنسن کا کہنا ہے کہ الیکٹورل کمیشن کی سربراہ کلیئر بیسٹ کا نکتہ نظر یہی ہے کہ ان کا ادارہ سوشل میڈیا کے ذریعے انتخابات میں ووٹرز پر اثر انداز ہونے کی غیر ملکی کوششوں کو روک نہیں سکتا۔

الیکٹورل کمیشن کی سربراہ کے مطابق اگر کوئی تنظیم یا شخص برطانیہ کی سرحدوں سے باہر کچھ کرتا ہے اور وہ کسی طرح بھی برطانوی دائرہ اختیار میں نہیں آتا تو ان کے قوانین اس چیز پر لاگو نہیں ہوتے۔

اس سوال کے جواب میں کہ اگر برطانوی ووٹرز کو ٹارگٹ کر کے ان پر اثرانداز ہونے کی مہم کی مالی مدد میں غیر ملکی حکومتیں یا باشندے ملوث پائے گئے تو اسے روکنے کے لیے الیکٹورل کمیشن کوئی اقدامات کر سکتا ہے؟ الیکٹورل کمیشن کی سربراہ کا مؤقف تھا کہ 'نہیں، بالکل نہیں۔'

غیر ملکی قوتوں کا انتخابات پر اثرانداز ہونے کا تذکرہ امریکہ اور فرانس کے صدارتی انتخابات کے دوران تواتر سے ہوتا رہا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

امریکی انتخابات کے بعد جاری کی گئی امریکی انٹیلیجنس اداروں کی رپورٹ میں روس پر امریکی صدارتی انتخابات کی مہم پر اثرانداز ہونے کے ایسے الزامات لگائے گئے جن کی بازگشت اور اثرات آج تک ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے۔ صدر ولادی میر پوتن ان الزامات کی شروع سے ہی تردید کرتے آئے ہیں کہ روس نے نومبر میں منعقدہ صدارتی انتخاب میں ہلیری کلنٹن کو نقصان پہنچاتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کی فتح میں مدد کی کوشش کی تھی۔

یاد رہے کہ فرانس کے حالیہ صدارتی انتخابات میں کامیاب ہونے والے امیدوار امینیول میکخواں کی انتخابی مہم کے بہت سارے خفیہ دستاویزات کو بھی انٹرنیٹ پر شائع کر دیا گیا تھا۔ اور ان کی انتخابی مہم کے منتظمین کا بھی کہنا تھا کہ انھیں ایک بڑے ہیکنگ حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

سوال یہ ہے کہ برطانیہ میں سوشل میڈیا کے زریعے انتخابات پر اثرانداز ہونے کی کوششوں کے تدارک کے لیے کیا جا سکتا ہے؟ الیکٹورل کمیشن کی سربراہ کے مطابق وہ ایسی کسی مداخلت کی روک تھام کے لیے جب مناسب ہو گا غیر ملکی ایجنسیوں کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔

الیکٹورل کمیشن کے مطابق انتخابات میں یہ قانون تو موجود ہے کہ یہ بتایا جائے کہ انتخابی مہم کے مواد کے لیے پیسے کہاں سے آئے لیکن سوشل میڈیا پر چلنے والی انتخابی مہم پر اس قانون کا اطلاق نہیں ہوتا۔ باالفاظ دیگر دنیا کے کسی بھی حصے سے سوشل میڈیا کے ذریعے برطانوی انتخابات پر اثرانداز ہونے کے خلاف کارروائی مشکل ہی ہے۔ کمیشن کے مطابق انہوں نے یہ سفارشات جاری کی ہیں کہ اس قانون کا اطلاق سوشل میڈیا پر بھی ہو۔

اسی بارے میں