صدر ٹرمپ نے ایران پر دوبارہ پابندیاں نہ لگانے کے فیصلے کی توسیع کر دی

ایران تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption چھ عالمی طاقتوں کے ساتھ معاہدے کے نتیجے میں ایران سے جوہری سرگرمیاں ترک کرنے کا کہا گیا تھا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ماضی میں ایران کے جوہری معاہدے پر شدید تنقید کرنے کے باجود ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی کے معاہدے کی توسیع کر دی ہے۔

خیال رہے کہ ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی 2015 میں ایرانی جوہری پرواگرام سے متعلق ایران اور دنیا کی چھ عالمی قوتوں کےدرمیان طے پانے والے معاہدے کا حصہ تھیں۔

ماضی میں صدر ٹرمپ نے اس معاہدے کو ’بدترین معاہدہ‘ قرار دیا تھا۔

امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے میزائل پروگرام کے ساتھ تعلق میں بعض اہلکاروں اور چینی کاروباروں پر تازہ پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔

اس اقدام کا مطلب یہ ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے یا اشیا فروخت کرنے والی کسی بھی امریکی کمپنی پر عائد پابندی معطل رہے گی۔

محمکہ خزانہ کی جانب سے تازہ پابندیاں انتہائی مخصوص ہیں اور ان کے تحت ایران کے دو دفاعی حکام، میزائل پروگرام میں مدد فراہم کرنے والے سپلائرز اور شام میں صدر بشار الاسد کو دی جانے والی ایرانی امداد کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ صدر ٹرمپ کو اس مسلے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس سے قبل سابق امریکی صدر براک اوباما نے مدت اقتدار ختم ہونے سے قبل اس معاہدے کی توسیع کی تھی۔

واضح رہے کہ اس معاہدے پر ماضی میں تنقید کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ 'ایران آگ کے ساتھ کھیل رہا ہے۔ کیا وہ اس بات کی قدر نہیں کریں گے کہ صدر اوباما ان کے ساتھ کتنے 'مہربان' تھے۔ لیکن میں نہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER

صدر ٹرمپ ایران کی میزائل سرگرمیوں پر کئی مرتبہ ایران کو خبردار کر چکے ہیں اور ماضی میں وہ سابق صدر اوباما کی جانب سے طے کی جانے والی معاہدے کی شرائط کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔

انھوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران کہا تھا کہ ’اگر میں منتخب ہو گیا تو اس تباہ کن معاہدے کو ختم کرنا میری اولین ترجیح ہوگی۔‘

دوسری جانب معاہدے میں شریک دیگر ممالک جن میں چین، روس اور برطانیہ شامل ہیں کے خیال میں ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کا یہ سب سے بہتر طریقہ ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں