ایف بی آئی کی تفتیش امریکہ کو نقصان پہنچا رہی ہے: ٹرمپ

ٹرمپ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنا دفاع کیا ہے اور انتخابی مہم کے دوران روس کے ساتھ کسی بھی طرح کی ملی بھگت سے انکار کیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کے انتخاب میں روس کے اثرانداز ہونے سے متعلق تفتیش کے لیے خصوصی کاؤنسل کی تقرری کے فیصلے سے امریکہ کو بہت بڑی زک پہنچ رہی ہے۔

واشنگٹن میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران بات کرتے ہوئے انھوں نے ایک بار پھر اپنا دفاع کیا اور انتخابی مہم کے دوران روس کے ساتھ کسی بھی طرح کی ملی بھگت سے انکار کیا۔

ان کا کہنا تھا: 'یہ پورا معاملہ محض نشانہ بنانے کے لیے ہے جس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلنا۔ ‘

واضح رہے کہ اس معاملے کی تفتیش کے لیے ایف بی آئی کے سابق سربراہ رابرٹ مولیر کو ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ تقریبا سبھی جماعتوں کے سیاسی رہنماؤں نے ان کی تقرری کا خیر مقدم کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کومی کی برطرفی کے بعد معالے کی تفتیش کے لیے رابرٹ مولیر کو مقرر کیا گیا ہے

گذشتہ ہفتے ڈونلڈ ٹرمپ نے وفاقی تحقیقی ادارے ایف بی آئی کے سربراہ جیمز کومی کو برطرف کر دیا تھا جس کے بعد سے اس معاملے کی خصوصی تفتیش کے لیے انتظامیہ پر زبردست دباؤ تھا۔

جمعرات کو صدر ٹرمپ نے اس بات کی تردید کی تھی کہ انھوں نے جیمز کومی کو برطرف کر کے اس معاملے کی تفتیش پر اثرا انداز ہونے کی کوشش کی۔

ان کا کہنا تھا: 'ڈائریکٹر کومی بیشتر افراد میں کافی غیر مقبول تھے۔ جب میں نے فیصلہ کیا تو حقیقت میں یہ سوچا کہ یہ فیصلہ دونوں جماعتوں کی جانب سے ہوگا کیونکہ آپ کو صرف رپبلکنز ہی نہیں بلکہ ڈیموکریٹک پارٹی کے لوگوں کو بھی دیکھنا ہوگا، وہ سب ڈائریکٹر کومی کے بارے میں بری بھلی باتیں کر رہے تھے۔'

بدھ کے روز ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ تاریخ میں کسی بھی سیاست دان کے ساتھ اس طرح کا غیر منصفانہ سلوک نہیں کیا گيا ہوگا جس طرح سے ان کے ساتھ کیا جارہا ہے۔

روس سے روابط سے متعلق تفتیش کے لیے خصوصی کاؤنسل کی تقرری کے فیصلے سے وائٹ ہاؤس کے بھی بہت سے افسران بھی حیرت زدہ تھے کیونکہ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے اس پر فیصلہ کرنے کے بعد صرف ٹرمپ کو ہی آگاہ کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption رابرٹ مولر کو اس کام کے لیے وسیع اختیارات حاصل ہوں گے

ایف بی آئی اور کانگریس دونوں ہی ٹرمپ کی انتخابی مہم کی ٹیم اور روس کے درمیان ممکنہ روابط سے متعلق تفتیش کرنا چاہتے ہیں اور اب اس کی تفتیش رابرٹ مولیر کے حوالے کی گئی ہے۔

امریکہ کے خفیہ اداروں کا ماننا ہے کہ روس نے نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں صدر ٹرمپ کو کامیابی دلوانے کے لیے اثرا انداز ہونے کی کوشش کی۔

نائب اٹارنی جنرل روزیزسٹیئن راڈ نے مولیر کی تقرری کا اعلان کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا تھا کہ عوامی دلچسپی اور مفاد کے پیش نظر وہ اس معاملے کی تفتیش ایسے شخص کی نگرانی میں چاہتے ہیں جو آزادانہ طور پر اپنے دائر اختیار کا استعمال کر سکے۔

اپنی تقرری کے بعد رابرٹ مولیر نے ایک بیان میں کہا: 'میں یہ ذمہ داری قبول کرتا ہوں اور اپنی صلاحیتوں کے مطابق اسے بخوبی نبھانے کی کوشش کروں گا۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں