تم لوگوں کو تو مجھے گولی مارنی چاہیے تھی: ٹائمز سکوائر حملہ آور

نیو یارک تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

امریکہ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذرائع کا کہنا ہے کہ نیویارک کے ٹائمز سکوائر میں راہ گیروں پر گاڑی چڑھانے والے شخص نے کہا ہے کہ اسے 'آوازیں سنائی دی تھیں'۔

26 سالہ رچرڈ روجس کے اس اقدام کے نتیجے میں ایک خاتون ہلاک اور 23 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

ایک تفتیش کار نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ رچرڈ نے اپنے اس قدم کا 'کوئی واضح جواز نہیں دیا اور وہ بس بےمعنی باتیں کر رہا ہے۔'

رچرڈ امریکی بحریہ کے سابق اہلکار ہیں اور ماضی میں انھیں دو بار نشے کی حالت میں گاڑی چلانے پر گرفتار کیا جا چکا ہے۔

رچرڈ کو اس واقعے کے بعد حراست میں لے لیا گیا تھا اور انھیں جمعے کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کو ذرائع نے بتایا کہ رچرڈ توقع کر رہا تھا کہ اسے مار دیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق حراست میں لیے جانے پر رچرڈ نے کہا 'تم لوگوں کو تو مجھے گولی مارنی چاہیے تھی! میں ان افراد کو مارنا چاہتا تھا۔'

نیویارک کے میئر بل ڈی بلیسو نے اس واقعے کے بعد کہا تھا کہ 'ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا جس سے اسے دہشت گردی کی کارروائی کہا جا سکے۔'

خیال رہے کہ اس سے قبل لندن، برلن اور فرانس کے شہر نیس میں راہ گیروں کو گاڑیوں سے کچلنے کے وقعات پیش آ چکے ہیں۔

نیویارک کی انتظامیہ نے حفاظتی اقدامات کے طور پر شہر کے اہم مقامات پر انسدادِ دہشت گردی یونٹ کے اضافی اہلکار تعینات کر دیے ہیں۔

نیویارک ٹائمز سے بات کرتے ہوئے ایک عینی شاہد 24 سالہ ڈانہے کا کہنا تھا کہ 'یہ گاڑی انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ جا رہی تھی اور مجھے ایسا لگا کہ جیسے وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو کچلنا چاہتا تھا۔ لوگ چھلانگیں لگا کر خود کو بچانے کی کوشش کر رہے تھے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

امریکی ٹی وی چینل اے بی سی کے مطابق پولیس کا خیال ہے کہ رچرڈ نے گانجا پی رکھا تھا۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق اس نے شراب نہیں پی ہوئی تھی۔

روئٹرز سے بات کرتے ہوئے رچرڈ کے ایک ہمسائے نے کہا کہ رچرڈ جب بحریہ میں سروس کر کے واپس آیا تو اسے شراب نوشی کی لت پڑ چکی تھی۔

'اس نے بڑا مشکل وقت دیکھا ہے۔ اس کو دہشت گرد یا کچھ اور نہ سمجھیں۔ اس نے ملک کی خدمت کی اور جب وہ واپس آیا تو کسی نے اس کی مدد نہیں کی۔ یہ میرا دوست ہے اور مجھے اس کے بارے میں فکر ہے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں