جنگی جہاز سے شروع ہوئے امریکہ سعودی تعلقات کے 70 سال

saudi تصویر کے کاپی رائٹ AFP

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بطور صدر اپنے پہلے دورے کے لیے سعودی عرب کا انتخاب کیا ہے جہاں وہ عرب اسلامک امیریکن اجلاس میں شرکت کریں گے۔

صدر ٹرمپ کو حال ہی میں چھ مسلم ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد کے امریکہ آنے پر سفری پابندیاں لگانے کی کوششوں کی وجہ سے اسلام مخالف کہا جا رہا تھا، وہ اپنا اولین دورہ کسی مسلم ملک کا کر رہے ہیں۔

امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات سات دہائیوں پر محیط ہیں۔ اس 70 سالہ اتحاد کی سب سے اہم بات تیل کے بدلے سکیورٹی کی فراہمی رہی ہے۔ تاہم اس عرصے میں دونوں ممالک کے روابط میں اتار چڑھاؤ آیا۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات ایک مختصر نظر مندرجہ ذیل ہے۔

سعودی عرب کے تیل کی تاریخ میں امریکی کردار

saudi تصویر کے کاپی رائٹ Hulton Archive/Getty Images

سعودی عرب نے اپنی پہلی تیل مراعات کے حوالے سے معاہدہ 1933 میں امریکی کمپنی سٹینڈرڈ آیل کمپنی کے ساتھ کیا۔ پانچ سال بعد سعودی عرب کے مشرقی علاقے دمام سے تیل کے ذخائر برآمد ہوئے۔ سنہ 1944 میں عریبیئن امیریکن آئل کمپنی (ارامکو) قائم کی گئی جو 1952 تک نیو یارک میں واقع رہی۔ سعودی حکومت نے 1980 میں اس کمپنی کو مکمل طور پر اپنے کنٹرول میں لے لیا۔

بحر الاحمر میں جنگی جہاز پر تعلقات کا آغاز

saudi تصویر کے کاپی رائٹ Hulton Archive/Getty Images

امریکہ اور سعودی عرب کے سٹریٹجک روابط ماڈرن سعودی عرب کے بانی شاہ عبدالعزیز السعود کے زمانے سے ہیں جب وہ امریکی صدر فینکلن روزوولٹ سے 1945 میں امریکی بحری جنگی جہاز یو ایس ایس کوئنسی پر ملے۔ سوئز کنال میں ہونے والی اس ملاقات میں دو اہم امور پر بات ہوئی۔ ایک فلسطین میں یہودی ملک کا قیام اور دوسرا سعودی امریکی معاہدہ جس کے تحت امریکہ سعودی عرب کو سکیورٹی فراہم کرے گا اور بدلے میں سعودی تیل تک امریکہ کو رسائی دی جائے گی۔

اسرائیل اور تیل پر پابندی

opec تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty

1973 کی اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان جنگ میں اوپیک نے ان ملکوں کو تیل فراہم کرنے پر پابندی عائد کر دی جنھوں نے اسرائیل کی حمایت کی۔ ان ممالک میں امریکہ بھی شامل تھا۔ اس پابندی نے امریکہ اور عالمی معیشت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔

افغانستان اور سوویت یونین

afghanistan تصویر کے کاپی رائٹ RAVEENDRAN/AFP/Getty Images

1979 میں سوویت یونین افغانستان میں داخل ہوا جس کا مقابلہ کرنے کے لیے مجاہدین کی فوج تیار کی گئی۔ اس فوج کی تیاری میں امریکہ کا ساتھ دیا سعودی عرب اور پاکستان نے۔ اس فوج میں ہزاروں سُنی جنگجو شریک ہوئے بشمول اسامہ بن لادن جو بعد میں القاعدہ کے سربراہ بھی بنے۔

صدام کی کویت کے خلاف جارحیت

saddam تصویر کے کاپی رائٹ PASCAL GUYOT/AFP/Getty Images

1991 میں عراق کے صدر صدام حسین نے کویت پر حملہ کیا تو کویت سے عراقی فوج کو نکالنے کے لیے امریکہ نے سعودی عرب فوج بھیجی۔ چند سخت موقف رکھنے والی سعودی مذہبی شخصیات نے سعودی عرب میں امریکی فوج کی تعیناتی کی مذمت کی۔ امریکی فوج کا سعودی عرب سے انخلا 2003 میں ہوا جب عراقی صدر صدام حسین کا تختہ الٹ دیا گیا۔ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان انسادا دہشت گردی کے حوالے سے روابط مزید مضبوط ہوئے اور سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق سعودی عرب امریکہ سے سب سے زیادہ اسلحہ خریدنے والا ملک بن گیا۔

ستمبر 11 کے حملے

usa تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات 11 ستمبر 2001 میں امریکہ پر حملے کے بعد خراب ہوئے جن میں تین ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ جن 19 ہائی جیکروں نے جہاز ہائی جیک کیے تھے ان میں سے 15 کا تعلق سعودی عرب سے تھا۔

صدام حسین اور صدر بش

iraq تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

2003 میں سعودی عرب نے امریکہ کی جانب سے عراقی صدر صدام حسین کو ہٹانے کے فیصلے کی مخالفت کی۔ اسی لیے سعودی عرب امریکی اتحاد کا حصہ بننے سے انکار کر دیا۔ سعودی عرب کا کہنا تھا کہ صدام حسین کو ہٹائے جانے سے عراق فرقوں میں تقسیم ہو جائے گا۔

اوباما اور ایران

iran تصویر کے کاپی رائٹ AFP

2015 میں امریکی صدر براک اوباما کی جانب سے ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ کرنے پر سعودی عرب کو ایساں ہوا کہ اس کو دھتکارا گیا ہے۔ سعودی عرب نے دیگر تیل سے مالا مال سُنی عرب ملکوں کے ساتھ مل کر جارحانہ خارجہ پالیسی اپنائی۔ اس پالیسی کے نتیجے میں اس نے بحرین میں جمہوریت کے حق میں ہونے والے مظاہروں کو کچلنے کے لیے فوج بھیجی، مصر میں عبدالفتح السیسی کی جانب سے حکومت الٹنے کی حمایت کی، اور یمن میں جاری خانہ جنگی میں اپنی فوج کو اتارا۔

امریکی صدر براک اوباما نے اپنے ایک بیان میں سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو 'پیچیدہ' قرار دیا۔

سعودی عرب پر مقدمہ کرنے کا بل

usa تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ستمبر 2016 میں امریکی کانگریس نے ایک بل منظور کیا جس کے تحت ستمبر 11 کے حملوں میں ملوث ہونے پر سعودی عرب پر امریکی شہری مقدمہ دائر کر سکتے ہیں۔ اس بل کو رکوانے کے لیے وائٹ ہاؤس اور سعودی عرب نے بے حد کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ سعودی عرب نے یہاں تک کہا کہ اگر یہ بل منظور کیا گیا تو سعودی عرب امریکہ میں اپنی سرمایہ کاری ختم کر دے گا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ

trump تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

صدر ٹرمپ نے صدارت سنبھالنے کے بعد سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی کوششیں شروع کر دیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے اس بات کا بھی اعلان کیا کہ ان کے نزدیک ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ ایک بہت بڑی غلطی تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں