’میری جیت سے ثابت ہوا ایرانی عالمی تعلقات چاہتے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صدارتی انتخابات میں ڈالے گئے ووٹوں کی شرح (ووٹر ٹرن آوٹ) تقریباً 70 فیصد رہا۔

ایران میں صدر حسن روحانی کا کہنا ہے کہ انتخابات میں ان کی کامیابی نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ ایرانی عوام نے شدت پسندی کو مسترد کردیا ہے اور عوام بیرونی دنیا کے ساتھ زیادہ روابط چاہتے ہیں۔

حال ہی میں 57 فیصد ووٹ حاصل کر کے صدارتی انتخاب میں کامیابی پانے والے ایرانی صدر روحانی کا کہنا تھا کہ ان کے حریف کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ان پر تنقید کریں اور وہ اس حق کی قدر کرتے ہیں۔

68 سالہ صدر حسن روحانی قدرے اعتدال پسند عالم ہیں جنھوں نے 2015 میں عالمی رہنماؤں سے جوہری معاہدے پر بات چیت کی تھی اور اہم معاہدہ طے پایا لیکن اس معاہدے کے ثمرات ابھی تک عوام تک نہیں پہنچ سکے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر روحانی کی اتنے بڑے پر کامیابی کا مطلب ہے کہ اب ان کے پاس اصلاحات کرنے اور ملک کی بگڑتی ہوئی معیشت میں دوبارہ جان ڈالنے کے لیے مینڈیٹ ہوگا۔

صدر روحانی کا کہنا تھا کہ ’ایران نے دنیا سے روابط کا راستے چنا ہے۔ ایسا راستہ جو کہ تشدد اور شدت پسندی سے بہت دور ہے۔‘

انھوں نے کہا ’انتخابات اب ختم ہوگئے ہیں۔ اب میں قوم کا صدر ہوں اور مجھے ہر ایک ایرانی کی مدد چاہیے بشمول ان کے جو میری پالیسیوں سے اختلاف کرتے ہیں۔‘

صدارتی انتخابات میں ڈالے گئے ووٹوں کی شرح (ووٹر ٹرن آوٹ) تقریباً 70 فیصد رہا۔ ڈالے گئے چار کروڑ ووٹوں میں سے تقریباً 2 کروڑ 30 لاکھ ووٹ حسن روحانی کے حق میں تھے۔

صدارتی انتخابی مہم کے دوران معاشی مسائل چھائے رہے کیونکہ ملک میں بے روزگاری کی شرح کافی بلند ہے جبکہ بیرونی سرمایہ کاری بھی نہیں ہوسکی ہے۔

صدر روحانی کے اہم حریف 56 سالہ ابراہیم رئیس الساداتی تھے جو کہ قدامت پسند خیالات کے مذہبی ایک عالم ہیں، اور سابق سرکاری وکیل ابراہیم رئیس کو سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قریب مانا جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ابراہیم رائیسی کی عمر 56 برس کی ہے اور وہ قدامت پسند خیالات کے مذہبی عالم ہیں، رائیسی کو سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنئی سے قریب مانا جاتا ہے

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں