افغانستان میں جرمن خاتون ہلاک، فنّش خاتون ’اغوا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ ایک اور خاتون جن کا تعلق فن لینڈ سے ہے، اس وقت لاپتہ ہیں اور ممکن ہے کہ انھیں اغوا کر لیا گیا ہو۔

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں مسلح حملہ آوروں نے ایک گیسٹ ہاؤس کو نشانہ بنایا ہے اور ایک جرمن خاتون اور ان کے افغان محافظ کو قتل کر دیا ہے۔

افغان وزارتِ داخلہ کے حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے سوئڈن سے تعلق رکھنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم ’آپریشن مرسی‘ کے گیسٹ ہاؤس کو سنیچر کی رات مقامی وقت کے مطابق تقریباً ساڑھے گیارہ بجے نشانہ بنایا۔

وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ ایک اور خاتون جن کا تعلق فن لینڈ سے ہے، اس وقت لاپتہ ہیں اور ممکن ہے کہ انھیں اغوا کر لیا گیا ہو۔

وزارتِ داخلہ کے ترجمان نجیب دانس نے بتایا کہ گیسٹ ہاٰؤس میں موجود تمام افراد آپریشن مرسی کے ملازمین تھے۔

غیر سرکاری فلاحی تنظیم آپریشن مرسی نے ابھی تک اس واقعے پر ردِعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

افغانستان میں جنگ میں طالبان غیر ملکی شہریوں کو اغوا کر کے قیدیوں کے تبادلے کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔

یاد رہے کہ اس سال کے آغاز میں طالبان نے گذشتہ سال افغانستان میں اغوا کیے جانے والے آسٹریلوی اور امریکی پروفیسر کی ویڈیو جاری کی تھی۔

امریکی کیون کنگ اور آسٹریلوی ٹموتھی وویکس کابل میں امیریکن یونیورسٹی آف افغانستان میں پروفیسر تھے جنھیں گذشتہ سال اگست میں یونیورسٹی کے باہر سے اغوا کیا گیا تھا۔

مسلح اغوا کار نے سکیورٹی فورسز کا یونیفارم پہن رکھا تھا۔

جاری ہونے والے ویڈیو سے معلوم ہوا تھا کہ اسے یکم جنوری کو بنانے کے بعد آن لائن پوسٹ کیا گیا۔ اس ویڈیو میں دکھائے جانے والا شخص کہہ رہا ہے کہ'انھیں بہتر حالت میں رکھا گیا ہے۔'

تاہم وہ اس ویڈیو میں نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے قیدیوں کے تبادلے کی پیشکش کرنے کی اپیل کر رہے تھے کہ تاکہ انھیں رہا کیا جائے، دوسری صورت میں ان کے بقول انھیں مار دیا جائے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں