اُدھر گوشت کھانے پر ادھر فیس بک پر قتل

Image caption کراچی کا ادبی میلہ لندن میں

لندن میں منعقد ہونے والے ایک روزہ کراچی لٹریچر فیسٹیول کی اٹھان ہی شاندار تھی۔

بلاشبہ مقبول مصنف اور صحافی محمد حنیف نے اپنی ’کی نوٹ سپیچ‘ میں ’کی نوٹ سپیچ‘ کے تصور کا جس طرح تیا پانچا کیا اور جس طرح اس میں پاکستان اور بھارت میں بڑہتی ہوئی عدم برداشت اور گمشدگیوں سے لے کر، مغرب میں بڑہتی ہوئی نسل پرستی جیسے موضوعات پر کاٹ کی وہ ان ہی کا خاصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ گوشت کھانے پر لوگوں کو قتل کرتے ہیں اور ہم فیس بک پوسٹ کی وجہ سے لوگوں کی جان لے لیتے ہیں۔ ’ہم ایسے بھائی ہیں جو بچپن میں ایک میلے میں بچھڑ گئے تھے۔‘

اپنی تقریر میں محمد حنیف نے پاکستان میں سیاسی گمشدگیوں، عدم برداشت، انسانی حقوق کی پامالی اور خواتین کی جانب نامناسب اور متعصبانہ رویے کو اپنے مخصوص انداز سے تنقید کا نشانہ بنایا۔ طنز کی کاٹ اور حس مزاح کے تڑکے کے ساتھ، محمد حنیف نے حاضرین کو نہ صرف محظوظ کیا بلکہ ان کے سوچنے کے لیے کئی زاوئے بھی چھوڑے۔

آکفسورڈ یونیورسٹی پریس کے زیر انتظام کراچی میں گزشتہ سات برس سے ہونے والے کراچی لٹریچر فیسٹیول کی لندن کے ساؤتھ بینک میں ہونے والے الکیمی فیسٹیول میں پہلی مرتبہ آمد ہوئی ہے۔

لیکن ساؤتھ بینک کی ادبی سرگرمیوں کے روح رواں، سینیئر پروگرامر فار لٹریچر اور سپوکن ورڈز، ٹیڈ ہوجکنسن نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ کے ایل ایف لندن کے ساؤتھ بینک الکمی فیسٹیول کا آنے والے برسوں میں بھی حصہ رہے۔

پاکستان کی دوسری زبانوں کے ادب کی نمائندگی فیسٹیول میں نہ ہونے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں مسٹر ہوجکنسن کا کہنا تھا کہ یہ بہت ضروری ہے کہ پاکستان کی دوسری زبانوں کی ادب کی بھی یہاں نمائیندگی ہونی چاہئے اور آنے والے برسوں میں اس جانب ضرور توجہ دی جائے گی۔ ان کے مطابق پاکستان میں سندھی، بلوچی، پشتو اور پنجابی میں بہت اچھا ادب تخلیق ہورہا ہے۔

مسٹر ہوجکنسن نے کہا کہ اس برس پاکستان کی آذادی کے ستر برس مکمل ہورہے ہیں اس لیے ساؤتھ بینک سینٹر نے یہ اہم جانا کہ اس موقع پر برطانیہ میں رہنے والی پاکستانی نژاد آبادی کو پاکستان کے ساتھ ادب کے ذریعے سے جوڑا جائے اور زندگی کے ان پہلوؤں کو دیکھا جائے جو عموماً نظر انداز ہوجاتے ہیں۔

کے ایل ایف کے ایک سیشن میں اس امر پر بحث ہوئی کہ پاکستان میں ہونے والی حالیہ قانون سازی سے کیا وہاں کی خواتین اور ٹرانسجینڈر کمیونٹی محفوظ ہوسکی ہے؟ بیشتر شرکا نے گو اس قانون سازی کو درست سمت میں ایک قدم قرار دیا تاہم ان کے مطابق معاشرے میں کسی واضع تبدیلی کے لیے سخت قوانین کے ساتھ ساتھ آگاہی اور تعلیم کی بھی بہت ضرورت ہے۔

انگریزی کی ایک اور ممتاز پاکستانی مصنفہ کاملہ شمسی نے کشمیری مصنف مرزا وحید اور قیصرا شاہراز کے ہمراہ تارکین وطن اور ان کی امنگوں سے متعلق ایک سیشن میں شرکت کی۔ کاملہ شمسی نے یورپ میں تارکین وطن کے جاری بحران میں برطانیہ کی جانب سے تارکین وطن کو پناہ دینے سے گریز کرنے پر تنقید کی، ساتھ ہی انہوں نے پاکستان میں حالیہ عرصے میں پختون آبادی کے خلاف تعصب اور دیگر اقدامات کو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔

فیسٹیول کے دیڑھ درجن کے قریب اجلاسوں میں ادب کے علاوہ سیاسی، سماجی، معاشی اور سوشل میڈیا سے متعلق موضوعات پر بھی سیر حاصل گفتگو کی گئی۔ اور شاید یہ پہلی مرتبہ ہے کہ پاکستان اور برطانیہ سے پاکستان کے موضوعات پر بات کرنے لیے پیسنٹھ سے زائد شخصیات کو اکھٹا کیا گیا ہو۔

کے ایل ایف کی ایک خوبصورت بات یہ بھی تھی کہ اس میں صرف بڑوں کے لیے ہی اجلاس نہیں تھے بلکہ خالد انعم نے برطانیہ میں پیدا ہونے والے بچوں کے ساتھ بھی خوب رنگ جمایا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ بعض بڑوں کے اجلاسوں کی نسبت راقم کو خالد انعم کا یہ شو زیادہ پسند آیا۔