ریپ کر کے پاکستان بھاگنے والے شخص کو نو سال کی سزا

امر معراج تصویر کے کاپی رائٹ West Midlands Police

برطانیہ میں ایک نوجوان لڑکی کو ریپ کرنے کے بعد پاکستان بھاگ جانے والے شخص کو برطانیہ واپس آنے کی کوشش کرنے پر گرفتار کر لیا گیا۔

29 سالہ عمار معراج ان چار افراد میں سے ایک تھے جنھوں نے ویسٹ مڈ لینڈز میں جولائی سنہ 2009 میں بے ہوشی کی حالت میں ایک 17 سالہ لڑکی کا ریپ کیا تھا۔

اس واقعے کے بعد عمار معراج برطانیہ سے چلے گئے تھے تاہم انھیں نومبر میں برطانیہ واپس آنے کی کوشش کرنے پر برمنگھم ایئر پورٹ پر گرفتار کر لیا گیا۔

سویڈن نے اسانج کے خلاف ریپ کی تحقیقات ختم کر دیں

پولیس کا کہنا ہے کہ معراج کو اس حملے میں ملوث ہونے کا اعتراف کرنے کے بعد نو سال اور نو ماہ قید کے لیے جیل بھیج دیا گیا۔

پولیس کے مطابق اس واقعے میں ملوث تین دیگر افراد کو بھی سنہ 2010 میں جیل بھیج دیا گیا۔

مغربی مڈ لینڈز پولیس کے مارک ٹیمنز کا کہنا ہے 'یہ ایک کمزور نوجوان لڑکی کے خلاف جرم تھا۔'

ان کا مزید کہنا تھا کہ نوجوانوں کو نقصان سے بچانا مغربی مڈ لینڈز پولیس اور پارٹنر ایجنسیوں کی اولین ترجیح ہے اور ہم جنسی جرائم کی اطلاع انتہائی سنجیدگی سے لیتے ہیں۔

مارک ٹیمنز کے مطابق یہ مقدمہ ثابت کرتا ہے کہ ہم مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے سے کبھی گریز نہیں کریں گے۔

شکر ہے کہ آخر کار معراج انصاف کی گرفت میں آ گیا۔

اس مقدمے کی ابتدائی سماعت میں اس حملے میں ملوث ہونے کا اعتراف کرنے پر برمنگھم کی کراؤن کورٹ نے جمعے کو معراج کو سزا سنائی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں