ایران کے لیے ٹرمپ کا موقف سخت کیوں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

یہ امریکی صدر کا مشرقِ وسطیٰ کا پہلا سفر ہے جو کہ آخری نہیں ہوگا لیکن انھوں نے ایک بات پہلے ہی واضح کر دی ہے۔

ایران کے لیے ناپسندیدگی وہ پہلی چیز ہے جس پر واشنگٹن کے بے صبر اتحادی متحد ہیں۔ تہران پر تنقید صدر ٹرمپ کے پہلے سعودی عرب اور پھر اسرائیل کے دورے کا واضح موضوع تھا۔

ایران کے پاس کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے: ٹرمپ

ایران کے لیے ان کی اشتعال انگیزی سے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یہ اسرائیل، سعودی عرب اور چھوٹی خلیجی ریاستوں کو اکھٹا کرنے کا ذریعہ ہو۔

لیکن یہ کتنے دور تک خطے کی شفاف سیاست میں بھونچال لانے کا سبب ہو گا یہ واضخ نہیں ہے۔

کسی عام بات کے لیے ایران کو گھیرنا ایک چیز ہے لیکن کیا یہ حقیقی معنوں میں خطے میں ایک نئی سفارت کاری کی شروعات کرے گا؟

ٹرمپ کے لیے تہران پر تنقید کی مختلف وجوہات ہیں۔ انھوں نے عالمی فورم پر سخت گفتگو کی۔ اس سے زیادہ سخت انداز اپنایا جو سابق صدر براک اوباما کا تھا۔ ٹرمپ کے خیال میں ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ تاریخ کا بدترین معاہدہ تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اس رویے سے وہ ایک ہی بار میں خلیجی ممالک اور اسرائیل دونوں کو ایک بار پھر یقین دہانی کروانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ اور اس نے اس نقطہ نظر کو دوبارہ واضح کیا ہے جو اس خطے میں کم ازکم ٹرمپ انتظامیہ کے خیال میں اسرائیل اور فلسطین کی طویل عرصے سے ہونے والی بے سود کوششوں کو ایک نئی راہ دے گا۔

اور یقینی طور پر صدر ٹرمپ کی تنقید تہران کی خطے کے بارے میں اپنائی گئی پالیسیوں کے بارے میں ایک تنبیہ بھی ہے۔

صدر ٹرمپ کی خارجہ پالیسی میں ابھی بہت سا کام ہورہا ہے۔

ان کا حالیہ دورہ زیادہ تر رسمی ہے۔ ان کی صدارت کے لیے یہ بہت ہی جلد ہے کہ وہ مشرقی وسطیٰ کے مسائل میں خود کو الجھا دیں۔

تو پھر سعودی عرب کے ساتھ ان کے تجارتی معاہدے کے علاوہ ہم نے اب تک دراصل جانا کیا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

امریکی سفارتخانے کو یروشلم منتقل کرنے کا فیصلہ ابھی موخر کر دیا گیا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ مشرق وسطی کے وسیع ترامن کے لیے جن امکانات کے بارے سوچتی ہے وہ کہ اس خطے کو سمجھنے والے ماہرین کے خیالات سے مختلف نظر آتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ نہ تو اسرائیلی اور نہ ہی فلسطینی دوررس امن کے لیے ضروری مفاہمت کرنے کے لیے تیار ہیں۔

کچھ کا خیال ہے کہ کسی جامع معاہدے کے بجائے جو کہ یروشلم اور مہاجرین کے مسائل کا حل دے ایک عبوری معاہدہ ہونا چاہیے جو شاید طویل مدت کے سفارتی عمل کو دوبارہ شروع کرے۔

تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ کیا نئی امریکی انتظامیہ میں اتنا صبر ہے کہ وہ اس قسم کی مہنگی سفارت کاری کرے۔ اور پھر یہ دوبارہ ہمیں ایران کی جانب لے جاتا ہے کہ ٹرمپ کی تہران کے لیے پالیسی ہے کیا؟

صدر ٹرمپ کی جانب سے بار بار ایران کے جوہری معاہدے کی مذمت سے کیا وہ واقعتاً اس سے باہر نکلنے کے قابل ہیں۔

یقینی طور پر صدر حسن روحانی کی دوبارہ انتخابات میں کامیابی معالات کو مزید پیچیدہ کر سکتی ہے۔

اگر آیت اللہ خامنہ ای اور پاسدران انقلاب کے ہاتھ میں خارجہ پالیسی ہے تب بھی حسن روحانی زیادہ ترقی پسند امیدوار تھے۔

حسن روحانی پہلے ہی کچھ یورپی سیاست دانوں سے تہران میں نئے راستوں کی تلاش پر بات کر چکے ہیں۔

ادھر عراق کی حکومت دولتِ اسلامیہ کے خلاف امریکہ کی اہم اتحادی ہے لیکن ایران بھی بغداد کا مضبوط حامی ہے۔

بدقسمتی سے یہ عجیب ساتھی ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں