یورپ میں دہشت گردی کے بڑے واقعات

مانچسٹر تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مانچسٹر ایرینا میں ہونے والے دھماکے کے بعد پولیس نے علاقے کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے اور عوام کو اس جگہ سے دور رہنے کے لیے کہا ہے

یورپ کے اہم ملک برطانیہ میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے کے بعد ایک بار پھر ایک بڑا حملہ ہوا ہے جس میں 19 افراد ہلاک اور 50 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔ یہ ہلاکتیں برطانیہ کے معروف شہر مانچسٹر میں جاری ایک کنسرٹ کے دوران پیر اور منگل کی درمیانی شب ایک دھماکے کے سبب ہوئی ہیں۔

پولیس ابھی معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے اور اسے مبینہ طور پر دہشت گرد حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل سات جولائی سنہ 2005 میں لندن بم دھماکوں میں چار حملہ آور سمیت 56 افراد ہلاک اور 700 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے تھے۔

رواں دہائی کے آغاز کے بعد سے براعظم یورپ کے مختلف ممالک شدت پسندوں کے نشانے پر رہے ہیں۔ یہاں ان حملوں کی مختصر تفصیل دی جا رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حملے میں استعمال ہونے والا ٹرک

7 اپریل سنہ 2017، سویڈن

سویڈن کے دارالحکومت سٹاک ہوم میں ٹرک نے کم از کم چار افراد کو کچل کر ہلاک کر دیا تھا جبکہ متعدد اس واقعہ میں زخمی ہوئے تھے۔

ازبکستان سے تعلق رکھنے والے 39 سالہ رحمت عقیلوف نے عدالت میں اس حملے کی ذمہ داری قبول کی۔ سویڈن کی پولیس کا کہنا تھا کہ سکیورٹی اداروں کو ماضی میں رحمت عقیلوف کے بارے میں اطلاعات تھیں۔

پولیس کے مطابق انھیں سویڈن میں رہائش کی اجازت نہیں ملی تھی اور وہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرچکے تھے۔

19 دسمبر سنہ 2016، جرمنی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اگر حملہ آور کوئی پناہ گزین ہوا تو یہ امر انتہائی تکلیف دہ ہو گا: اینگلا میرکل

جرمنی کے شہر برلن میں کرسمس مارکیٹ پر ٹرک کے ذریعے ہونے والے حملے 12 افراد ہلاک اور 49 زخمی ہوگئے تھے۔ جنگجو تنظیم دولت اسلامیہ نے کرسمس مارکیٹ پر ٹرک کے ذریعے ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی لیکن ان کے دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں۔

14 جولائی سنہ 2016، فرانس

یورپ کا اہم ملک فرانس جمعرات کو ایک مرتبہ پھر شدت پسندی کے ایک حملے کا نشانہ بنا۔ جنوبی شہرنیس میں حملہ آور نے اپنے ٹرک تلے 84 افراد کو کچل کر ہلاک کر دیا جبکہ اس حملے میں ایک سو سے زیادہ افراد زخمی ہوئے تھے۔

28 جون 2016، ترکی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فرانس کے شہر نیس میں ایک ٹرک ڈرائیور دو کلو میٹر تک لوگوں کو کچلتا رہا تھا

ترکی کے شہر استنبول کے بین الاقوامی اتاترک ہوائی اڈے پرتین خودکش حملہ آوروں نے دھماکے کیے جن میں 42 افراد ہلاک ہوگئے۔ ہلاک شدگان میں 13 غیرملکی بھی شامل تھے۔

کسی تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی تاہم ترکی کے وزیراعظم بن علی یلدرم نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان حملوں میں خود کو دولتِ اسلامیہ کہنے والی شدت پسند تنظیم ملوث ہے۔

22 مارچ 2016، بیلجیئم

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ترکی میں ہونے والے حملے میں مرنے والوں کا سوگ مناتے ہوئے ایک شخص کو دیکھا جا سکتا ہے

بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز کا ہوائی اڈہ اور شہر کا میٹرو سٹیشن تین دھماکوں کا نشانہ بنا جو کہ خودکش تھے۔ ان حملوں میں 34 افراد ہلاک ہوئے جبکہ زخمیوں کی تعداد 150 سے زیادہ تھی۔

وزیرِ اعظم شارل میشیل نے ان حملوں کو ملک کی تاریخ کا 'سیاہ لمحہ' قرار دیا۔

13 مارچ 2016، ترکی

اس مرتبہ خودکش حملہ آور کا ہدف ترک دارالحکومت انقرہ کا ایک مصروف اور پرہجوم علاقہ کیزلے تھا۔ دھماکے میں 34 افراد کی جان گئی جبکہ 125 افراد زخمی ہوئے۔ اس حملے کی ذمہ داری کردش فریڈم ہاکس نامی جنگجو گروہ نے قبول کی۔

13 نومبر 2015، فرانس

تصویر کے کاپی رائٹ BELGIUM POLICE
Image caption بیلجیئم پولیس نے حملہ آوروں کی یہ تصاویر جاری کی تھی

فرانس کا دارالحکومت 13 نومبر کو اس وقت دھماکوں اور فائرنگ سے گونج اٹھا جب شہر کے چھ مقامات پر شدت پسندوں نے ریستورانوں، موسیقی کی تقریب اور فٹبال سٹیڈیم کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں میں 130 افراد ہلاک ہوئے جبکہ زخمیوں کی تعداد سینکڑوں میں تھی۔

شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی جبکہ فرانسیسی صدر نے اس کے بعد ملک میں ہنگامی حالت نافذ کر دی۔

7 جنوری 2015، فرانس

پیرس میں متنازع سیاسی رسالے چارلی ایبڈو کے دفتر اور ایک یہودی سپر مارکیٹ پر مسلح حملہ آوروں نے سلسلہ وار حملوں میں 17 افراد کو ہلاک کر دیا۔

پہلے سعید اور شریف کواشی نامی دو بھائیوں نے چارلی ایبڈو کے دفتر میں گھس کر فائرنگ کر دی جس سے 12 افراد ہلاک ہوگئے جس کے بعد ایک اور شدت پسند نے ایک یہودی سپر مارکیٹ میں مزید افراد کو نشانہ بنایا۔

یہ تمام حملہ آور پولیس سے مقابلے میں مارے گئے۔

24 مئی 2014، بیلجیئم

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption برسلز میں حملے کے بعد سکیورٹی میں اضافہ کر دیا گيا تھا

برسلز کے یہودی عجائب گھر میں کلاشنکوف سے مسلح شخص کی فائرنگ سے چار افراد مارے گئے۔ہلاک شدگان میں دو اسرائیلی شہری تھے جبکہ ایک کا تعلق بیلجیئم اور ایک کا فرانس سے تھا۔

حملہ آور کا نام مہدی نموش بتایا گیا جسے بعد ازاں فرانس سے گرفتار کر کے بیلجیئن حکام کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ اس کا تعلق شام میں سرگرم شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سے بتایا گیا۔

19 مارچ 2012، فرانس

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption لندن میں ہونے والے بم دھماکے میں مرنے والوں کی تربت پر لوگ ہرسال پھول پیش کرنے آتے ہیں

شدت پسند تنظیم القاعدہ سے منسلک ہونے کے دعویدار محمد مراح نامی شخص نے فرانس کے جنوبی شہر تولوز میں فائرنگ کر کے یہودی سکول کے تین طلبا، ایک ربی اور تین فوجیوں کو ہلاک کر دیا۔ فرانسیسی پولیس نے 32 گھنٹے کے محاصرے کے بعد حملہ آور کو اس وقت گولی مار کر ہلاک کر دیا جب وہ فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔

22 جولائی 2011، ناروے

ناروے میں دائیں بازو کے شدت پسند نظریات رکھنے والے حملہ آور آنرش بہرنگ بریوک نے پہلے دارالحکومت اوسلو میں ایک بم دھماکہ کیا اور اس کے بعد یوٹویا نامی جزیرے پر نارویجن لیبر پارٹی کے یوتھ کیمپ میں گھس کر فائرنگ کر دی اور ان واقعات میں 77 افراد جان سے گئے جن میں سے بیشتر نوجوان تھے۔

ان حملوں کے بعد بریوک کو حراست میں لے لیا گیا اور عدالت نے مقدمہ چلانے کے بعد انھیں 21 برس قید کی سزا سنائی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں