’والدین بچوں کو اور بچے والدین کو پکار رہے تھے‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
ٓمانچسٹر دھماکہ: ’میں نے لوگوں کو زمین پر گرے دیکھا‘

برطانیہ کے شہر مانچیسٹر میں ایک کنسرٹ کے دوران خودکش حملے کے عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایک زوردار دھماکے کی آواز سنی جس کے بعد بھگدڑ مچ گئی۔

22 سالہ روبرٹ ٹیمپکن نے بتایا کہ'ہر کوئی چیخ رہا تھا اور بھاگ رہا تھا، فرش پر لوگوں کے کوٹ اور فون گرے ہوئے تھے۔ لوگوں نے ہر چیز پھینک دی۔'

مانچیسٹر میں کنسرٹ کے دوران خودکش حملے میں 22 ہلاک

انھوں نے بتایا کہ کچھ لوگ چیخ رہے تھے کہ انھوں نے خون دیکھا ہے۔ تاہم دیگر کہہ رہے تھے غبارہ پھٹنے یا سپیکر کی زوردار آواز آئی ہے۔

روبرٹ کے مطابق 'وہاں بہت سی ایمبولینسز تھیں۔ میں نے دیکھا کہ کسی کو طبی امداد دی جا رہی تھی۔ میں یہ نہیں بتا سکتا کہ اسے کیا ہوا تھا۔'

ایک اور عینی شاہد اینڈی ہولی جو کہ اپنی بیوی اور بیٹی کو لینے کے لیے وہاں پہنچے تھے نے بتایا کہ 'میں انتظار کر رہا تھا کہ دھماکہ ہو گیا جس کی وجہ سے میں ایک دروازے سے 30 فٹ دور تک جا گرا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

راکیل نامی عینی شاہد نے بتایا کہ وہ مانچیسٹر ایرینا کے بلاک نمر 213 میں اپنی 14 سالہ بیٹی کے ہمراہ موجود تھیں۔ وہ کہتی ہیں کہ بھیٹر سے بچنے کے لیے انھوں نے کنسرٹ کے اختتام سے قبل ہی باہر نکلنے کا فیصلہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'جیسے ہی ہم باہر نکلے ہم نے ایک زوردار آواز سنی، پہلے تو ہم نے سوچا ہم نے کنسرٹ میں کچھ مِس کر دیا ہے، جیسے ہی ہم واپس پلٹے وہاں لوگوں کو ہجوم تھا جو اپنے قدموں پر گر رہے تھے لوگ فرش پر گرے ہوئے تھے۔'

کنسرٹ میں موجود دو خواتین نے بتایا کہ 'ہم نے دیکھا کہ وہ ہمارے بہت قریب ہوا ہے۔۔۔ ایک بہت بڑا دھماکہ۔۔۔۔ بڑی۔۔۔ آگ۔۔۔ اوپر ہوا میں اٹھی اور ہمیں محسوس ہوا جیسے اس نے ہمارے چہرے کو لپیٹ میں لے لیا ہے۔۔۔۔ہر کوئی سیڑھیاں چڑھنے کے لیے بھاگ رہا تھا۔۔۔ ایک دوسرے کو دھکیل رہا تھا۔۔۔ رو رہا تھا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کنسرٹ میں موجود ایک لڑکی سٹیسی نے بتایا کہ انھوں نے ایک لڑکی کو دیکھا جسے وہ جانتی تھیں۔ 'وہ زمین پر بیٹھی تھی اور طبی عملہ اس کے قریب تھا۔ اس کا بازو اوپر کیا ہوا تھا جو خون سے لت پت تھا۔ جو بھی پھٹا اس نے اس لڑکی کا ہاتھ بری طرح متاثر کیا۔`

ان کے مطابق 'والدین اپنے بچوں کو آوازیں دے رہے تھے اور بچے ادھر سے ادھر بھاگ رہے تھے اور اپنے والدین کو آوازیں دے رہے تھے۔'

ایک اور عینی شاہد ریچل نے بتایا کہ 'میوزک بند ہوا اور لائٹیں آن ہو گئیں اور چند سیکنڈوں کے بعد چیخوں کی آوازیں آئیں اور لوگوں نے بھاگنا شروع کر دیا۔ کرسیوں پر بیٹھے لوگوں نے کرسیوں کے اوپر سے کود کر بھاگنا شروع کر دیا۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں