مانچیسٹر دھماکہ: ’رہائش چاہیے یا کہیں جانا ہے تو رابطہ کریں‘

مانچیسٹر تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

برطانیہ کے شہر مانچیسٹر میں امریکی گلوکارہ آریانا گرینڈے کے کنسرٹ کے دوران دھماکے کے بعد سوشل میڈیا پر دنیا بھر سے افراد اس دہشت گردانہ کارروائی کی مذمت کر رہے ہیں۔

دھماکے کے بعد سے اب تک ٹوئٹر پر مانچیسٹر، ’پرے فار مانچیسٹر‘ اور ’سٹینڈ ٹوگیدر‘ عالمی سطح پر ٹرینڈ کر رہے ہیں۔

مانچیسٹر ایرینا میں ’دھماکہ‘

مانچیسٹر میں خودکش دھماکے کے بعد کے مناظر

مانچیسٹر میں کنسرٹ کے دوران خودکش حملے میں 22 ہلاک

آریانا گرانڈے آج کل یورپی ممالک کے دورے پر ہیں اور مختلف شہروں میں کنسرٹ کر رہی ہیں اور انھوں نے اس واقعے پر اپنے جذبات کے اظہار کے لیے ٹوئٹر کا سہارا لیا۔

انھوں نے ٹویٹ کیا کہ ’افسردہ، دلی طور پر، میں معذرت خواہ ہوں، میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

مانچیسٹر دھماکے کے بعد بہت سارے افراد نے اس سے متاثر ہونے والے افراد کی مدد کی پیشکش کی جبکہ ٹیکسی ڈرائیورز بھی بلامعاوضہ لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچاتے رہے۔

اس کے علاوہ خون کے عطیات اور لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے بھی بہت سے افراد ٹویٹس کر رہے ہیں۔

ڈینٹی گیسکن نے ٹویٹ کیا کہ ’اگر آپ مانچیسٹر ارینا کے واقعے میں پھنس گئے ہیں اور آپ کے پاس کہیں جانے کی جگہ نہیں ہے تو رابطہ کریں۔ میں پانچ منٹ کے فاصلے پر ہوں۔‘

بینی نے کہا کہ ’یہ حقیقت کہ لوگ اپنے گھروں میں رہائش کی پیشکش کر رہے ہیں اور ٹیکسی ڈرائیورز بلامعاوضہ سفر فراہم کر رہے ہیں اس سے آپ کو برطانوی ہونے پر فخر محسوس ہوتا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

بین بریٹین نے ایک تصویر ٹویٹ کی جس میں مانچیسٹر میں ایک ربی پولیس اہلکاروں کو چائے پیش کر رہا ہے۔

اسی طرح کئی دیگر افراد کا بھی کہنا تھا کہ اگر وہ شہر سے باہر یا کسی دور دراز کے علاقے سے آئے ہیں تو وہ انھیں رہائش فراہم کر سکتے ہیں۔

سائمن کلینسی نے لکھا کہ ’مانچیسٹر میں اگر کسی کو اپنے والدین کا انتظار ہے یا کہیں ٹھہرنا ہے یا کوئی فون کال کرنی ہے تو ان کے ساتھ رابطہ کریں۔‘

اسی طرح کرولینا سٹینیکا نے بھی اسی قسم کی پیشکش کی کہ وہ بھی متاثرہ افراد کو رہائش فراہم کر سکتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

ڈین بلینڈ نے ٹویٹ کیا کہ ’اگر آریانا گرینڈے اپنے شوز منسوخ کر دیتی ہیں تو میں کسی کو شکایت کرتے نہیں دیکھنا چاہتا۔ آپ کو اپنی رقوم واپس چاہییں؟ تو کچھ والدین کو اپنے بچے واپس چاہیں۔‘

بیل نے ٹویٹ کیا کہ ’دہشت گردی کا کوئی مذہب، نسل، رنگ نہیں ہوتا، اور سب سے بڑھ کر دنیا میں اس کی کوئی جگہ نہیں ہے، ہم اس کے خلاف متحد کھڑے ہیں۔‘

ایبی ریولی نے اپنے خیالات کا اظہار کچھ یوں کیا کہ 'اپنے آنسو روک نہیں سکتی، میں غصے میں ہوں۔ پریشان ہوں، ناراض ہوں، ڈری ہوئی ہوں، اداس ہوں ۔۔۔ ہر اس فرد کے لیے دعا گو ہوں جو اس سے متاثر ہوا ہے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں