مانچیسٹر دھماکے کی عالمی مذمت، 'مقصد نوجوانوں کو نشانہ بنانا تھا'

مانچیسٹر تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

برطانوی شہر مانچیسٹر میں امریکی گلوکارہ کے کنسرٹ کے موقع پر ہونے والے دھماکے اور اس کے نتیجے میں ہلاکتوں پر دنیا بھر سے تعزیتی پیغامات اور رد عمل سامنے آ رہا ہے۔’

پیر کی شب مقامی وقت کے مطابق دس بج کر 35 منٹ پر مانچیسٹر ایرینا میں گلوکارہ آریانا گرینڈے کے کنسرٹ کے موقع ہو نے والے اس دھماکے میں بچوں سمیت 22 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

مانچیسٹر دھماکے پر دنیا بھر سے دردناک اور شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

مانچیسٹر میں کنسرٹ کے دوران خودکش حملے میں 22 ہلاک

مانچیسٹر ایرینا میں ’دھماکہ‘

فرانس کا کہنا ہے کہ یہ ایک بزدلانہ حملہ تھا جس کا مقصد ’خصوصاً اور جان بوجھ کر نوجوانوں کو نشانہ بنانا تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اس موقع پر جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے کہا کہ ’یہ انتہائی ناقابل فہم ہے کہ کوئی کیسے اتنے لوگوں کو مارنے کے لیے ایک تفریحی پاپ کنسرٹ کا استعمال کر سکتا ہے۔‘

روسی صدر ولادی میر پوتن نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ’بیہمانہ اور ظالمانہ جرم قرار دیا ہے۔‘

دوسری جانب اس وقت مشرق وسطی کے دورے پر موجود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس واقعے کی مذمت کی ہے اور حملہ آوروں کو ’ہاری ہوئی برائی قرار دیا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

چینی صدر شی جنگ پنگ نے اس موقع پر ملکۂ برطانیہ کو فون کال کی اور کہا کہ چین اس مشکل وقت میں برطانیہ کے ساتھ کھڑا ہے۔

ان سب کے علاوہ انڈین، کینیڈا اور آسٹریلیا کے اعلیٰ حکام کی جانب سے بھی مذمتی پیغامات سامنے آئے اور ان تمام ممالک نے بھی برطانیہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔

منگل کے روز جامع الاظہر کی جانب سے بھی ایک بیان جاری ہوا جس میں اس حملے کو مجرمانہ عمل اور تمام مذاہب اور انسانی روایات کے خلاف قرار دیا گیا۔

بیان میں برطانیہ سے اس واقعے پر تعزیت کے ساتھ ساتھ زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعائیں بھی کئی گئیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں