انڈونشیا میں ہم جنس مباشرت پر بید کی سزا

تصویر کے کاپی رائٹ JUNAIDI
Image caption انڈونیشیا میں عام طور پر ہم جنس مباشرت قابلِ تعزیر نہیں ہے۔ تاہم آچے صوبے میں شریعت نافذ ہے اس لیے اس پر سزا دی جاتی ہے۔

انڈونیشیا کے صوبے آچے میں دو مردوں کو آپس میں جنسی فعل کرنے پر ہر ایک کو تیراسی بید مارنے کی سزا دی گئی ہے۔

جس وقت دونوں افراد کو سرِعام سزا دی جا رہی تھی تو وہ سفید چوغے پہنے ہوئے توبہ کر رہے تھے۔ سزا دینے والی ٹیم کے ارکان نقاب پوش تھے جنھوں نے ان افراد کی پیٹھ پر تیراسی بید رسید کیے۔

ان میں سے ایک شخص کی عمر بیس برس جبکہ دوسرے کی تئیس برس ہے۔ دونوں افراد کو مارچ میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ اپنے گھر میں جنسی فعل میں مصروف تھے اور ویجیِلانٹے یا خدائی فوجداروں کا ایک گروہ ان کے گھر میں داخل ہوا۔

ان افراد کی شناخت کو خفیہ رکھا گیا ہے۔

انڈونیشیا میں عام طور پر ہم جنس مباشرت قابلِ تعزیر نہیں ہے۔ تاہم آچے صوبے میں شریعت نافذ ہے اس لیے اس پر سزا دی جاتی ہے۔

آچے میں پہلے بار کسی کو بید مارنے کی سزا دی گئی ہے۔

سزا پر عملدرآمد صوبائی دارالحکومت بندا آچے میں ایک مسجد کے سامنے کیا گیا۔

اُس وقت وہاں تماش بینوں کی بھیڑ تھی اور وہ 'زور سے مارو!' اور 'یہ تمھارے لیے سبق ہے' جیسے نعرے لگا رہے تھے۔

سزا دیے جانے سے پہلے ایک سرکاری اہلکار نے لوگوں کو خبردار کیا کہ وہ مجرموں پر حملہ کرنے کی کوشش نہ کریں کیونکہ وہ بھی انسان ہیں۔

بندا آچے میں بی بی سی کی نامہ نگار ربیکا ہینسشکی کا کہنا ہے کہ سزا ایک روز پہلے وہ ایک مجرم سے ملیں جو گھبرایا ہوا تھا۔

دونوں کی برہنہ حالت میں ویڈیو آن لائن پر متعدد بار شیئر کی گئی۔

انھوں نے کہا: 'میں چاہتا ہوں کہ مجھے جلد سے جلد سزا ملے تاکہ میں گھر جا سکوں۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے میں کسی گہرائی سے خود کو نکالنے کی کوشش کر رہا ہوں۔'

اس سے قبل آچے میں بید مارنے کی سزا صرف جوئے اور شراب نوشی پر دی جاتی تھی۔

گزشتہ پیر کو دارالحکومت جکارتہ میں پولیس نے ایک پارٹی کے دوران ایک سو اکتالیس افراد کو 'ہم جنس پارٹی' منعقد کرنے کے الزام گرفتار کرلیا تھا۔ تاہم بیشتر کو اگلے روز ہی رہا کر دیا گیا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں