دولت اسلامیہ کے بعد موصل کی رونقیں بحال؟

موصل تصویر کے کاپی رائٹ Ghadi Sary
Image caption دولت اسلامیہ کے شہر سے نکل جانے کے بعد خواتین کی زندگیاں بہتر ہو رہی ہیں اور دکانوں میں ان کے لیے کپڑوں اور میک اپ کی مصنوعات کی فروخت دوبارہ شروع ہو گئی ہے

شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کا تین سالہ دور عراق کے شہر موصل کے رہائشیوں کے لیے قیامت سے کم نہیں تھا۔ شہریوں کے مطابق ان تین سالوں میں انھوں نے شدید تشدد دیکھا جہاں بچوں کو چھوٹی چھوٹی غلطیوں پر قتل کر دیا جاتا تھا، عوامی طور جرم کرنے والوں کو کوڑے مارے جاتے تھے اور لوگوں کو حراست میں لے کر انھیں غائب کر دینا بہت معمول کی بات تھی۔

موصل شہر کو اس سال جنوری میں دولت اسلامیہ کے قبضہ سے چھڑا لیا گیا ہے۔ وہاں سے بی بی سی کو حاصل ہونی والی خصوصی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح دولت اسلامیہ کے جنگجو خواتین اور اقلیتی مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کو اذیتیں پہنچاتے تھے۔

خلافت، موصل اور مسجد النوری

’موصل میں شہریوں کی ہلاکتیں ممکنہ جنگی جرائم‘

موصل میں حکومتی دفاتر فوج کے کنٹرول میں

لیکن ان ویڈیوز میں یہ بھی دیکھا جا سکتا دولت اسلامیہ کو نکالے جانے کے بعد سے شہر میں کس طرح زندگی معمول پر واپس آرہی ہے اور کس طرح سکول، کیفے، اور دکانیں روز مرہ کے معمول کے مطابق شروع ہو گئی ہیں۔

بی بی سی کے لیے صحافی غادی سارے نے خفیہ طریقہ سے ویڈیوز بنائیں کیں اور ان میں موصل کے رہائشیوں کی زندگی کے مختلف حالات فلم بند کیے۔

خواتین کی زندگیوں پر قابو:

مارچ میں موبائل فون کی مدد سے بنائی گئی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح دولت اسلامیہ کو شہر سے نکالے جانے کے بعد خواتین کی زندگیاں بہتر ہو رہی ہیں اور دکانوں میں ان کے لیے کپڑوں اور میک اپ کی مصنوعات کی فروخت دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔

36 سالہ ماہا کہتی ہیں: 'میں وہ دن کبھی نہیں بھول سکتی جس دن ایک سات سالہ بچی کے ساتھ انھوں نے کیا ظلم کیا تھا۔ وہ بچی ایک چھوٹی سی دکان کے عمر رسیدہ دکاندار سے ٹافی خرید رہی تھی جب دولت اسلامیہ کے شدت پسند اس کے پاس گئے اور اس سے پوچھا وہ کدھر رہتی ہے۔ بچی نے انھیں جواب دیا اور اس کے فوراً بعد وہاں سے بھاگ گئی۔ اس بچی کے والدین مکان سے باہر نکلے تو دولت اسلامیہ کے دہشت گردوں نے انھیں بولا کہ ان کی بچی نے شریعہ قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس دکاندار کے ساتھ اکیلے وقت گزارا اور طویل بحث کے بعد اس کے لیے سزا متعین کی۔

اس بچی کی ماں نے متعدد بار اس کی جان کی امان کی درخواست کی اور ان سے بولا کہ اس چھوٹی سے بچی کی غلطی کو معاف کر دیں اور بچی کے بجائے اس کی ماں کو سزا دے دیں لیکن ان حیوانوں نے کوئی بات نہیں سنی اور اس بچی کو پر تشدد طریقے سے زود و کوب کیا جس سے اس بچی کی موت ہوگئی۔

اس اندوہناک واقعہ کے بعد سارا محلہ اپنے بچوں کی زندگیوں کے لیے سخت پریشان ہو گیا تھا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دولت اسلامیہ کے دور میں خواتین پر شدید مظالم ڈھائے گئے تھے

27 سالہ ریم کہتی ہیں کہ دولت اسلامیہ کے دور میں انھیں ہر وقت ایسا لگتا تھا کہ وہ جیل میں زندگی گزار رہیں ہیں اور ان کے لیے گھر سے باہر نکلنے کے مواقعے بہت کم تھے۔

انھوں نے بتایا کہ دولت اسلامیہ کے نکالے جانے کے باوجود بھی ان کو ڈر اور خوف ہے اور وہ اس بارے میں ڈراؤنے خواب دیکھتی ہیں۔

روز مرہ کے معمول کی بربادی:

موصل کے شہریوں کی زندگیاں دولت اسلامیہ کی وجہ سے مکمل طور پر تبدیل ہو گئی تھیں۔ فوٹیج سے ظاہر ہوتا ہے کہ کس طرح موصل کی یونیورسٹی تباہ کی گئی تھیں لیکن وہاں کے شہری دوبارہ کلاسیں شروع کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

30 سالہ حسین بتاتے ہیں کہ دولت اسلامیہ نے اپنے دور حکومت میں فیصلہ کیا کہ وہ سیٹلائٹ ڈشوں پر پابندی عائد کریں گے۔

میرے والد کو خدشہ تھا کہ اگر دولت اسلامیہ والوں کو معلوم ہو گیا کہ ہمارے پاس ڈش ہے تو وہ ہمیں سخت سزا دیں گے تو ہم نے فیصلہ کیا کہ اس ڈش کو نکال دیں۔

لیکن اس کے بعد جب کئی ہفتوں تک دولت اسلامیہ والوں نے پورا شہر بند کر دیا اور اس کی وجہ سے ہم بالکل فارغ اور بے روزگار تھے تو ہم گھر پر بیٹھے بیٹھے بور ہو گئے۔ تو اس کے بعد ہم نے فیصلہ کیا کہ ڈش دوبارہ لگا دی جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption موصل میں روز مرہ کی زندگی معمول پر واپس آرہی ہے

ہم نے اپنے طور پر ڈش کو اپنی چھت پر ایسے لگایا تھا کہ وہ چھپی رہی اور آسانی سے نظر نہ آئے لیکن چند ہی دنوں کے بعد ہماری گلی سے چیخ و پکار کی آوازیں آئیں تو ہم اسی وقت سمجھ گئے کہ دولت اسلامیہ کہ مذہبی پولیس حصبہ آگئی ہے تو میں فوراً بھاگا کہ چھت سے ڈش کو نکال دیں۔

اسے وقت دولت اسلامیہ والے ہمارے دروازے سے گھس کر اندر آگئے اور میرے والد کو گھسیٹ کر باہر لے گئے۔ میں فوراً ان کو بچانے کے لیے نیچے بھاگا تو وہ مجھے بھی میرے محلے کے دوسرے نوجوانوں کے ساتھ پکڑ کر لے گئے۔

حسین نے مزید بتایا کہ حراست میں لیے جانے کے بعد انھوں نے نو دن صعوبت میں سوئے بغیر گزارے۔ اس کے بعد ان کو ایک جج کے سامنے پیش کیا گیا جس نے انھیں 60 دفعہ کوڑے مارنے کی سزا سنائی۔

جب ان کو کوڑے مارنے شروع کیے گئے تو تکلیف سے ان کی چیخیں نکل گئیں اور ہر چیخ پر دولت اسلامیہ والے گنتی دوبارہ صفر سے شروع کرتے۔

اقلیتوں کے ساتھ ظلم و ستم:

دولت اسلامیہ نے اپنے دورِ حکومت میں مسلمانوں کے ساتھ تو ظلم کیا ہی لیکن اس کے ساتھ ساتھ عیسائیوں کے گرجا اور ان کے گھروں کو بھی تباہ و برباد کر دیا اور وہاں لوٹ مار مچائی۔

32 سالہ حمزہ کہتے ہیں کہ جب دولت اسلامیہ شہر میں داخل ہوئی تو اس نے مساجد اور گرجا گھروں کو خاص طور پر نشانہ بنایا۔

حمزہ نے بتایا کہ ان کے ایک پڑوسی نے اپنے عیسائی دوست کے مکان کی چابیاں سنبھال لیں جب وہ دولت اسلامیہ کے آنے کے بعد شہر سے بھاگ گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption موصل شہر کے نزدیک قائم ایک گرجا گھر جہاں اب عیسائی عبادت کے لیے واپس آنا شروع ہو گئے ہیں

'دولت اسلامیہ والوں نے مسلسل اس پر دباؤ ڈالا کہ وہ گھر کی چابیاں ان کے حوالے کر دیں لیکن میرے پڑوسی نے ہمیشہ مزاحمت کی اور ان کو بولا کہ اگر وہ ہمارے پیغمبر کی عزت کرتے ہیں تو وہ ان کی دی ہوئی تعلیم کی عزت کریں گے اور کسی کے جان و مال کی امانت میں خیانت نہیں کریں گے۔

اس کے بعد وہ مسلسل میرے پڑوسی کے پاس آتے رہے، ڈراتے دھمکاتے رہے لیکن وہ ڈٹا رہا۔ حتی کہ ایک بار وہ اس کو پکڑ کر لے گئے اور اس پر تشدد کیا لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوا۔

بالآخر میرے پڑوسی نے دولت اسلامیہ والوں کو یقین دلایا کہ اس نے وہ مکان اپنے بیٹے کے لیے خرید لیا ہے اور جب ہمیں دولت اسلامیہ کہ قبضے سے چھٹکارا ملا اور میرے پڑوسی کے عیسائی دوست واپس آئے تو کہیں جا کر اس نے گھر کی چابیاں واپس کیں۔ '

اسی بارے میں