امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پوپ فرانسس سے ملاقات

ٹرمپ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption امریکی صدر ٹرمپ کی ویٹیکن میں پوپ فرانسس سے پہلی ملاقات

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دور صدارت کے پہلے غیر ملکی دورے کے دوران عیسائیوں کے مذہبی رہنما پوپ فرانسس سے ویٹیکن سٹی میں ملاقات کی ہے۔

ویٹیکن سٹی پہنچنے سے پہلے ڈونلڈ ٹرمپ سعودی عرب اور اسرائیل کا دورہ کر چکے ہیں۔

ویٹیکن کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق دونوں رہنماؤں کی ملاقات میں عالمی معاملات پر 'تبادلہ خیال' ہوا اور دونوں نے اچھے تعلقات کو جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔

ٹرمپ خوش تو ہم خوش !

'شدت پسندی کےخلاف جنگ عقائد کے مابین جنگ نہیں ہے'

’اسرائیل اور فلسطین میں امن کے لیے ہر ممکن کوشش کروں گا‘

صدر ٹرمپ نے اس ملاقات کے بارے کہا کہ یہ 'بہترین ملاقات' تھی۔

یاد رہے کہ ماضی میں دونوں رہنماؤں کے درمیان مختلف معاملات جیسے کہ تارکین وطن کا مسئلہ، میکسیکو اور امریکہ کے درمیان دیوار بنانے کا منصوبہ اور ماحولیاتی تبدیلی کے بارے میں اختلاف رہا ہے ۔

پوپ فرانسس سے ملاقات کے علاوہ صدر ٹرمپ نے اٹلی کے صدر اور وزیر اعظم سے بھی ملاقات کی۔

صدر ٹرمپ اپنے وفد کے ساتھ آخری لمحات میں طے کی جانے والی ملاقات کے لیے ویٹیکن صبح ساڑھے آٹھ بجے پہنچے جہاں ان کو آرچ بشپ گیورگ گانسوین نے خوش آمدید کیا۔

وہاں موجود صحافیوں کے مطابق ملاقات کی ابتدا میں صدر ٹرمپ کافی دھیمے مزاج میں دکھائی دیے جبکہ پوپ فرانسس، جو کہ عام طور پر عالمی رہنماؤں سے ملاقات کے دوران کافی خوشگوار موڈ میں ہوتے ہیں، کچھ سنجیدہ دکھائی دیے۔

لیکن آدھے گھنٹے کی ملاقات کے آخر تک دونوں رہنما پرسکون نظر آئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption صدر ٹرمپ کی جانب سے پوپ فرانسس کو دیا گیا تحفہ

ویٹیکن سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق دونوں رہنماؤں نے ملاقات کے دوران اس امید کا اظہار کیا ہے کہ وہ 'صحت اور تعلیم کے شعبے اور تارکین وطن کی مدد کرنے کے سلسلے میں' ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں گے۔

عالمی امور پر بات کرتے ہوئے دونوں نے دنیا میں امن کے پھیلاؤ اور مشرق وسطیٰ میں مسیحی برادری کے تحفظ کے بارے میں گفتگو کی۔

ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کے ساتھ تحائف کا تبادلہ بھی کیا۔

صدر ٹرمپ نے پوپ فرانسس کو انسانی اور شہری حقوق کے معروف رہنما مارٹن لوتھر کنگ کی تحریروں کا مجموعہ تحفے میں دیا جبکہ پوپ فرانسس نے صدر ٹرمپ کو عالمی امن کے دن کے موقع پر دیے جانے والی تقریر کا دستخط شدہ مسودہ اور ماحول کے تحفظ کے بارے میں اپنی تحاریر تحفے میں دیں۔

اس کے علاوہ انھوں نے صدر ٹرمپ کو زیتون کے درخت کی شکل کا بنا ہوا ایک مجسمہ دیا جس کے ساتھ ساتھ صدر ٹرمپ کو پیغام دیا کہ 'یہ میری خواہش ہے کہ آپ امن قائم کرنے کے لیے زیتون کا درخت بن جائیں۔'

صدر ٹرمپ نے پوپ فرانسس کی جانب سے یہ تحفہ ملنے کے بعد ان سے کہا کہ 'ہم سب امن سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ وہ پوپ فرانسس کی دی ہوئی تحاریر کا مطالعہ کریں گے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں