مانچیسٹر کی ڈڈزبری مسجد میں’کوئی بھی نمازی میڈیا سے بات نہیں کرے گا‘

Image caption مانچیسٹر میں خودکش حملہ کرنے والے شدت پسند سلمان عبیدی ڈیڈزبری مسجد میں جاتا تھا

مانچیسٹر کے مضافات میں واقع ڈڈزبری مسجد تک دوران سفر ٹیکسی ڈرائیور پال کی تقریباً ہر بات چونکا دینے والی تھی۔

ان کے بقول زندگی میں پہلی بار آج وہ خود کو بالکل سُن محسوس کر رہے ہیں۔

٭ مانچیسٹر پولیس کو خودکش حملہ آور کے 'نیٹ ورک' کی تلاش

٭ مانچیسٹر حملہ: سلمان عبیدی کون تھا؟

٭ 'مانچیسٹر دھماکے کا مقصد نوجوانوں کو نشانہ بنانا تھا'

ٹیکسی ڈرائیور پال کے مطابق 'دنیا کے لیے تو مانچیسٹر ارینا میں ہونے والا خودکش دھماکہ بس دہشت گردی کا ایک اور واقعہ ہو گا جو کہ بھلا دیا جائے گا لیکن میرے جیسے مانچیسٹر کے باسیوں کو یہ دن اور سانحہ اب کبھی نہیں بھولے گا۔'

پال نے بغیر سانس لیے بولنا جاری رکھا کہ'جیسے جیسے مرنے والوں کی عمر اور ان کی شناخت کے بارے میں بتایا جا رہا ہے میں مزید افسردہ اور سُن ہوتا جارہا ہوں۔ کمسن بچوں کو کوئی کیسے جان سے مار سکتا ہے؟ دنیا کا کوئی ایسا مذہب بھی ہے جس میں ایسا کرنے کی اجازت ہو؟'

پیچھے دیکھتے ہوئے پال نے مجھ سے سوال کیا کہ کیا آپ کے بچے ہیں؟ میرا جواب سنے بغیر ہی پال نے اگلا جملہ یہ کہا کہ والدین کو اس سانحے نے بہت ہی بڑا درد دیا ہے۔

پال 30 برس ڈڈزبری میں رہنے کے بعد اب یہاں سے منتقل ہو چکے ہیں لیکن انہیں مانچیسٹر کی اس حصے میں واقع مسجد کی تاریخ پوری معلوم تھی جو کہ پلک جھپکتے بین الاقوامی میڈیا کی توجہ حاصل کر چکی تھی۔

ان کا کہنا تھا ڈڈزبری مسجد کافی مہنگے علاقے میں واقع ہے اور ایک چرچ کو خرید کر مسجد میں تبدیل کیا گیا۔

مسجد کے قریب پہنچے تو صحافیوں کی ایک بڑی تعداد پہلے سے ہی وہاں موجود تھی لیکن مسجد کے باہر پولیس اور انتظامیہ کے سخت پہرے کی وجہ سے کسی کو بھی اندر داخل ہونے کی اجازی نہیں دی جا رہی تھی۔

نماز ظہر کا وقت ہوتے ہی نمازی مسجد کی جانب آنے لگے جن میں عرب نژاد برطانوی شہریوں کے علاوہ کچھ پاکستانی نژاد برطانوی بھی شامل تھے۔

ان میں عبداللہ کا تعلق کراچی سے تھا اور وہ تواتر سے ڈڈسبری کی مسجد میں نماز پڑھنے آتے ہیں۔

انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ 'خودکش حملہ آور سلمان عبیدی دماغی طور پر صحت مند شخص نہیں تھا۔'

اس کے بعد میں نے نمازیوں کے ساتھ ہی مسجد میں داخل ہونے کی کوشش کی تو مجھے پولیس اور انتظامیہ نے یہ کہہ کر روک دیا کہ کسی بھی صحافی کو اندر جانے کی اجازت نہیں ہے۔

میں نے ان سے سوال کیا کہ اگر کوئی صحافی مسلمان ہو اور نماز پڑھنا چاہے تو کیا آپ اسے روکیں گے؟

کافی بحث و مباحثے کے بعد مجھے ان کڑی شرائط پر مسجد میں اندر داخل ہونے کی اجازت ملی کہ میں مسجد کے اندر کسی سے بات نہیں کروں گا، نہ موبائل فون استعمال کر کے تصویر اتاروں گا اور امام مسجد کے پیچھے والی صف میں کھڑا ہو کر نماز بھی نہیں پڑھ سکوں گا۔

شرائط قبول کر کے وضو کیا اور سیدھا مسجد کے اس کونے میں دبک کر بیٹھ گیا جہاں سے مجھے آگے پیچھے یا دائیں بائیں جانے کی اجازت نہیں تھی۔

اسی دوران گیٹ پر کھڑے مسجد کی انتظامیہ کے ایک نوجوان جس نے مجھے تو اپنا نام بتانے سے گریز کیا، میرے پاس آ کر میرا شناختی کارڈ اس بات کی تصدیق کرنے کے لیے مانگا کہ میرا نام بھی واقعی مسلمانوں والا ہے؟

تصدیق کے بعد اس کے پوچھنے پر میں نے بتایا کہ میرا تعلق پاکستان کے شہر پشاور سے ہے۔ اس پر وہ مسکرایا اور بولا، 'کیا زبردست ملک کے ساتھ آپ کا بارڈر ہے'، تو میں نے کہا آپ افغانستان کی بات کر رہے ہیں کیا؟

اس نوجوان نے جیسے میرا سوال سنا ہی نہ ہو اور یہ کہتے ہوئے دوبارہ مسجد کے دروازے کی سکیورٹی کی جانب بڑھ گیا کہ 'مغربی میڈیا میں آپ لوگوں (پاکستانیوں) کا غلط تاثر زیادتی ہے۔'

ظہر کی نماز کے بعد اعلان کیا گیا کہ کوئی بھی نمازی میڈیا سے بات نہیں کرے گا۔ اس مسجد میں عرب مسلمانوں کی تعداد کافی زیادہ تھی اور مسجد کے معاملات کا پورا کنٹرول انہی کے پاس تھا، مسجد میں ہر طرف عربی ہی سنائی دی۔

مسجد کا نظام اور کنٹرول دیکھ کر یہ تاثر ملا کہ یہ کوئی عام نہیں بلکہ کافی منظم اور مالی طور پر مستحکم مسجد ہے۔

مسجد سے باہر نکلنے پر گیٹ پر موجود صبح سے کسی خبر کے منتظر درجنوں صحافی، مجھے ایسے گھورنے لگے جیسے مجھے مسجد میں اندر جانے کے لیے شاید ان سے بھی اجازت لینی چاہیے تھی۔

تھوڑی دیر بعد مسجد انتظامیہ اور کمیونٹی کے راہنماؤں نے میڈیا کے سامنے آ کر بیان پڑھا کہ وہ میڈیا رپورٹس غلط ہیں کہ خودکش بمبار سلمان عبیدی نے اس مسجد میں کام کیا ہے لیکن انہوں نے اس بات کی تردید نہیں کی کہ سلمان تواتر سے اس مسجد میں آتا رہا، اس کے خیالات شدت پسندانہ تھے اور اس کا بھائی یہاں بچوں کو پڑھاتا رہا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں