نیٹو پر 'سخت' بات چیت کے لیے ٹرمپ برسلز میں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption برسلز میں ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ہزاروں لوگوں نے احتجاجی مظاہرے کیے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نیٹو میں شامل فوجی اتحادیوں کے اراکین کے ساتھ بعض 'سخت' امور پر بات چيت کے لیے برسلز پہنچے ہیں۔

آج وہ یورپی یونین کے رہنماؤں سے بھی ملاقات کرنے والے ہیں، مسٹر ٹرمپ نیٹو اور یورپی یونین دونوں پر ہی نکتہ چینی کرتے رہے ہیں۔

برسلز پہنچنے کے بعد ٹرمپ نے سب سے پہلے بیلجیئم کے شاہ اور ملکہ سے ملاقات کی جبکہ ہزاروں لوگوں نے برسلز میں ان کی آمد کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی کیے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نیٹو میں شامل اتحادی ممالک پر اس بات کے لیے نکتہ چینی کرتے رہے ہیں کہ دفاعی بجث میں جی ڈی کا جو دو فیصد خرچ کرنے پر اتفاق ہوا تھا اسے وہ پورا نہیں کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption برسلز پہنچنے کے بعد ٹرمپ نے سب سے پہلے بیلجیئم کے شاہ اور ملکہ سے ملاقات کی

جمعرات کے روز ملاقاتوں سے پہلے امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے صحافیوں سے بات چیت میں کہا تھا کہ صدر ٹرمپ 'حقیقت میں نیٹو ارکان سے اپنی کوششیں تیز کرنے اور اپنے فرائض کو پورا کرنے کے لیے انھیں قائل کرنے کی کوشش کریں گے۔'

ان کا کہنا تھا: 'میرے خیال سے آپ صدر سے ان کے ساتھ بہت سخت ہونے کی توقع کر سکتے ہیں اور وہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم سب زیادہ کچھ نہیں کر رہے ہیں۔ امریکی لوگ آپ کی سکیورٹی، اور مشترک تحفظ کے لیے، بہت کچھ کر رہے ہیں۔ آپ کو یہ یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ آپ بھی اپنی سکیورٹی کے لیے اپنا حق ادا کریں۔'

مسٹر ٹیلرسن کا کہنا تھا کہ ان کی نظر میں یہی نیٹو کے لیے ان کا اہم پیغام ہوگا۔

اطلاعات کے مطابق اس ملاقات میں فرانس اور جرمنی جیسے ممالک اسلامی شدت پسندی کی روک تھام، خاص طور پر نام نہاد دولت اسلامیہ کے خلاف، نیٹو کے بڑے کردار سے متعلق امریکی منصوبے سے اتفاق کر سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption برسلز جانے سے قبل امریکی صدر ٹرمپ نے ویٹیکن میں پاپ فرانسس سے ملاقات کی تھی

صدر ٹرمپ نیٹو کے ہیڈ کوارٹر کا دورہ کریں گے جہاں انھیں مختصر خطاب بھی کرنا ہے۔ لیکن اس سے پہلے وہ یورپی یونین کے افسران سے ملاقات کریں گے اور پھر فرانس کے نئے صدر ایمینوئیل میخواں کے ساتھ ایک ظہرانے میں شریک ہوں گے۔

برسلز جانے سے قبل امریکی صدر ٹرمپ نے ویٹیکن میں پاپ فرانسس سے ملاقات کی تھی۔

ان سے ملاقات کے بعد انھوں نے کہا کہ اب وہ دنیا میں امن کی کوششیں کرنے کے حوالے سے پہلے سے زیادہ پر عزم ہیں۔

واضح رہے کہ پوپ فرانسس اور امریکی صدر کے درمیان امیگریشن، ماحولیات کی تبدیلی اور میکسیکو کی سرحد پر دیوار بنانے جیسے مسائل کے تعلق سے شدید اختلاف پائے جاتے رہے ہیں۔

امریکی صدر اور پوپ کی ملاقات کے بعد ویٹیکن نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے سیاسی بات چيت اور بین المذاہب مذاکرات کی مدد سے دنیا میں امن کے فروغ کے لیے تبادلہ خیال کیا۔

بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ مشرق وسطی میں آباد عیسائی برادریوں کے تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں