مانچیسٹرحملہ: ’تصاویر کی اشاعت کے بعد امریکہ کے ساتھ انٹیلیجنس معلومات کا تبادلہ بند‘

ٹریسا مے تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption برطانوی وزیرِ اعظم ٹریزامے آج نیٹو کے ہونے والے اجلاس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات میں اس حوالے سے برطانیہ کے خدشات کا اظہار کریں گی

بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ برطانوی شہر مانچیسٹر میں پیر کی شب ہونے والے خودکش حملے کے بعد کی بعض تصاویر منظرِ عام پر آنے کے بعد اب مانچیسٹر کی پولیس نے امریکہ کے ساتھ معلومات کا تبادلہ روک کر دیا ہے۔

برطانوی پولیس کا کہنا ہے کہ وہ مانچیسٹر میں خودکش حملہ کرنے والے شدت پسند سلمان عبیدی کے 'نیٹ ورک' کی تلاش میں ہیں۔

پولیس نے پیر کی رات ہونے والے اس حملے سے تعلق کے شبہے میں مزید لوگوں کو گرفتار کیا ہے جن میں سے ایک کو نانیٹن کے علاقے سے حراست میں لیا گیا ہے۔ ان گرفتاریوں کے بعد زیرِ حراست فراد کی تعداد آٹھ ہو گئی ہے۔

مانچیسٹر ایرینا میں ایک کنسرٹ کے بعد ہونے والے اس حملے میں 22 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں سے 12 کی شناخت کی جا چکی ہے۔ حملہ میں 64 افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔

* مانچیسٹر حملہ: سلمان عبیدی کون تھا؟

٭ خطرے کی سطح کب کب بڑھی اور کیوں؟

٭ قبل از وقت معلومات افشا کرنے پر برطانیہ امریکہ سے ناراض

بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ مانچیسٹر بم حملے کی معلومات امریکہ کو نہ دینے کا فیصلہ اس حملے کے بعد کی تصاویر امریکی میڈیا میں جاری کیے جانے کے بعد کیا گیا ہے۔

برطانیہ کے حکام نے حملے کے مقام پر ملبے کی تصاویر نیو یارک ٹائمز میں شائع ہونے کے بعد ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔

اس سے پہلے حملہ کرنے والے خود کش بمبار سلمان عبیدی کا نام بھی 24 گھنٹوں کے بعد امریکی میڈیا میں جاری کر دیا گیا تھا۔

برطانوی وزیرِ اعظم ٹریزا مے جمعرات کو نیٹو کے اجلاس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات میں اس حوالے سے برطانیہ کے خدشات کا اظہار کریں گی۔

گریٹر مانچیسٹر پولیس کو امید ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان معمول کی انٹیلیجنس کا تبادلہ جلد بحال ہو جائے گا تاہم بی بی سی کو حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق ابھی وہ ’ غصے‘ میں ہیں۔

اب تک برطانیہ میں آٹھ افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔ پولیس کی جانب سے تفتیش جاری ہے کہ آیا لیبیائی نژاد خودکش بمبار سلمان عبیدی تنہا کام کر رہا تھا یا اس کو کسی کی مدد حاصل تھی۔ جبکہ مانچیسٹر میں خودکش حملہ کرنے والے شدت پسند سلمان عبیدی کے والد رمضان اور چھوٹے بھائی ہاشم کو لیبیا میں ملیشیا نے حراست میں کے لیا ہے۔ اس کے بھائی پر نام نہاد تنظیم دولتِ اسلامیہ سے تعلق کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔

ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ عبیدی کے کالج میں ہم جماعتوں نے الگ الگ ٹیلی فون کالز کر کے پولیس کو ان کے شدت پسند نظریات سے متعلق آگاہ بھی کیا تھا۔

Image caption مانچیسٹر پولیس کا کہنا ہے کہ حملے کا ذمہ دار 22 سالہ لیبیائی نژاد شخص سلمان عبیدی تھا۔

برطانیہ کی وزیر داخلہ امبر رڈ نے کہا ہے یہ 'عین ممکن' ہے کہ مانچیسٹر حملے کا مشتبہ بمبار سلمان عبیدی تنہا کام نہیں کر رہا تھا۔

امبر رڈ نے کہا کہ برطانیہ بھر میں سڑکوں پر 3800 فوجی تعینات کیے جا سکتے ہیں تاہم ان کے مطابق سکیورٹی کو لاحق خطرے کی سطح کو انتہائی درجے پر رکھنا عارضی عمل ہو سکتا ہے۔

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ انٹیلیجنس اداروں کو 'کسی حد تک' بمبار کے بارے میں معلوم تھا۔

برطانیہ میں جمعرات کی صبح 11 بجے ایک منٹ کے لیے ہلاک شدگان کی یاد میں خاموشی اختیار کی جائے گی۔

سکیورٹی کے لیے بی بی سی کے نامہ نگار فرینک گارڈنر کے مطابق خیال کیا جا رہا ہے کہ سلمان عبیدی کو صرف بم لے جانے لیے استعمال کیا گیا تھا اور اصل میں اسے بنانے والا کوئی اور ہے۔

خطرے کی سطح انتہائی درجے پر

سنہ 2014 سے برطانیہ میں حملے کے خطرے کی سطح اس سے ایک درجہ کم تھی جس کا مطلب تھا کہ ’حملے کے امکانات بہت زیادہ ہیں‘۔ خطرے کی سطح کو انتہائی درجے تک اس سے پہلے صرف دو مرتبہ لے جایا گیا ہے۔

ایسا پہلی بار سنہ 2006 میں اس وقت کیا گیا تھا جب ٹرانس اٹلانٹک فلائٹس پر مائع بموں کی مدد سے حملہ کرنے کے منصوبے کو ناکام بنایا گیا تھا۔

وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ حکومت نے ’آپریشن ٹیمپیرر‘ کا آغاز کر دیا ہے اور اس کے تحت عوام کے تحفظ کے لیے اہم عوامی مقامات پر مسلح پولیس کی مدد کے لیے فوج کو تعینات کیا جائے گا۔

ٹریزا مے کا کہنا تھا کہ آنے والے ہفتوں میں پولیس کو مختلف جگہوں پر جیسا کہ کنسرٹس وغیرہ میں بھی تعینات کیا جائے گا اور وہ پولیس آفسروں کے ماتحت کام کریں گے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں