نیٹو اتحادی اپنے حصے کے دفاعی اخراجات لازمی ادا کریں: صدر ٹرمپ

ٹرمپ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو میں شامل اتحادی ممالک سے کہا ہے کہ وہ لازمی طور پر دفاعی بجٹ میں اپنے حصے کے مناسب اخراجات ادا کریں۔

امریکی صدر نے برسلز میں نیٹو ممالک کے رہنماؤں سے بات کرتے ہوئے امریکی خدشات کا اظہار کیا کہ یورپی ممالک دفاع پر اپنے حصے کی رقم خرچ نہیں کر رہے ہیں۔

انھوں نے ان ممالک کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ' بہت بڑی رقم کے قرض دار ہیں۔'

٭ نیٹو پر 'سخت' بات چیت کے لیے ٹرمپ برسلز میں

٭’نیٹو کےساتھ تعاون اٹل لیکن یورپ دفاعی اخراجات بڑھائے‘

صدر ٹرمپ کے بقول 'یہ امریکی عوام اور ٹیکس دینے والوں سے انصاف نہیں اور بہت سارے ممالک کئی برسوں سے بہت بڑی رقم کے قرض دار ہیں اور کئی برسوں سے رقم ادا نہیں کر رہے ہیں۔'

ڈونلڈ ٹرمپ اس سے پہلے بھی نیٹو میں شامل اتحادی ممالک پر اس بات کے لیے نکتہ چینی کرتے رہے ہیں کہ دفاعی بجث میں جی ڈی کا جو دو فیصد خرچ کرنے پر اتفاق ہوا تھا اسے وہ پورا نہیں کر رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے نیٹو ہیڈ کوارٹر میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت نیٹو کے 28 رکن ممالک میں سے صرف پانچ اپنے مالی ذمہ داری پوری کر رہے ہیں۔

جمعرات کو شروع ہونے والے نیٹو کے اجلاس میں امریکی صدر پہلی بار متعدد عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں جن میں فرانس کے نومنتخب صدر ایمینوئیل میخواں بھی شامل ہیں۔ صدر ٹرمپ نیٹو اجلاس میں شرکت کے بعد وہ اٹلی کے جزیرے سسلی میں جی سیون ممالک کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption برسلز میں ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ہزاروں لوگوں نے احتجاجی مظاہرے کیے

صدر ٹرمپ کے نیٹو اجلاس سے خطاب سے پہلے امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے صحافیوں سے بات چیت میں کہا تھا کہ صدر ٹرمپ 'حقیقت میں نیٹو ارکان سے اپنی کوششیں تیز کرنے اور اپنے فرائض کو پورا کرنے کے لیے انھیں قائل کرنے کی کوشش کریں گے۔'

ان کا کہنا تھا: 'میرے خیال سے آپ صدر سے ان کے ساتھ بہت سخت ہونے کی توقع کر سکتے ہیں اور وہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم سب زیادہ کچھ نہیں کر رہے ہیں۔ امریکی لوگ آپ کی سکیورٹی، اور مشترک تحفظ کے لیے، بہت کچھ کر رہے ہیں۔ آپ کو یہ یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ آپ بھی اپنی سکیورٹی کے لیے اپنا حق ادا کریں اور ان کی نظر میں یہی نیٹو کے لیے ان کا اہم پیغام ہوگا۔'

برسلز پہنچنے کے بعد ٹرمپ نے سب سے پہلے بیلجیئم کے شاہ اور ملکہ سے ملاقات کی جبکہ ہزاروں لوگوں نے برسلز میں ان کی آمد کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی کیے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں