مصر: قبطی مسیحیوں کی بس پر فائرنگ سے کم از کم 28 ہلاک

مسیحی تصویر کے کاپی رائٹ facebook

مصر کے صدر عبدالفاتح السیسی نے کہا ہے کہ قبطی عیسائیوں پر حملے کے بعد ملکی فوج نے 'دہشت گردوں کے تربیتی کیمپوں' پر حملہ کیا ہے۔

مصر کے سرکاری میڈیا کے مطابق لیبیا کے نواح میں موجود گاؤں دیرنا میں چھ فضائی حملے کیے گئے۔

اس سے قبل مصر کے سرکاری میڈیا نے خبر دی تھی کہ نامعلوم مسلح افراد نے قبطی مسیحیوں کو لے کر جانے والی ایک بس پر فائرنگ کر کے کم از کم 28 افراد کو ہلاک اور 25 کو زخمی کر دیا ہے۔

یہ واقعہ دارالحکومت قاہرہ سے 220 کلو میڑ دور منہا صوبے میں اس وقت پیش آیا جب بس قبطی مسیحیوں کو لے کر سینٹ سیموئل کی خانقاہ کی جانب جا رہی تھی۔

مصر: قبطی گرجا گھروں میں دھماکے، کم از کم 36 افراد ہلاک

مصر: قبطی گرجا گھروں پر حملوں کے بعد ملک میں ایمرجنسی

واضح رہے کہ مصر میں حالیہ مہینوں کے دوران خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم نے قبطی مسیحیوں پر حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

رواں سال نو اپریل کو مصر میں دو گرجا گھروں کو خود کش دھماکوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا تھا جس میں کم سے کم 46 افراد ہو گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ان حملوں کے بعد مصر کے صدر عبدل فاتح السیسی نے ملک میں ہنگامی حالت نافذ کر دی تھی۔

اگرچہ مصر میں قبطی مسیحیوں کی ایک بڑا تعداد آباد ہے تاہم ایک اندازے کے مطابق اس ان کے دس لاکھ ارکان مصر سے باہر بھی آباد ہیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ سال دسمبر میں قاہرہ میں ایک گرجا گھر میں ہونے والے دھماکے میں 25 افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ فروری میں دولت اسلامیہ نے قبطی مسیحیوں کو خبردار کیا تھا کہ انھیں مزید حملوں کے ذریعے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں