گیارہ سالہ بچی کا سکول پر ’جنگی جرم‘ کا الزام

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER/MASONCROSS

ایک گیارہ سالہ بچی کا یہ دعویٰ کہ اس کا سکول جنگی جرم کا مرتکب ہوا ہے انٹرنیٹ پر وائرل ہو گیا ہے۔

بچی کے والد گیون بیل جو کہ بطور مصنف میسن کراس کے نام سے جانے جاتے ہیں نے بچی کا بیان ٹویٹر پر ایک پیغام میں اپ لوڈ کیا۔

بچی نے یہ دعویٰ سکول کی جانب سے ہی ملنے والے ایک فارم کو فلِ کرتے ہوئے کیا ہے۔

بچی نے ایک بچے کے برے رویے کی سزا ساری کلاس کو دیے جانے کی پالیسی پر نکتہ چینی کی اور کہا کہ یہ جینیوا کنوینشنز کی خلاف ورزی ہے۔ بچی کے والد نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ 'کہہ نہیں سکتا کہ مجھے اسے سزا دینی چاہیے یا آئس کریم خرید کر دینی چاہیے۔'

بچی جن کا نام ایوا بیل ہے سے ایک تحریری سوال میں پوچھا گیا کہ اس کے استاد خود کو کیسے بہتر کر سکتے ہیں؟

اس کے جواب میں بچی نے لکھا' اجتماعی سزا نہ دے کر کیونکہ یہ بہت سے لوگوں کے ساتھ انصاف نہیں جو کچھ نہیں کرتے اور سنہ 1949 کے جینیوا کنونشن کے مطابق یہ جنگی جرم ہے۔'

گلاسگو کے رہائشی گیون بیل نے ٹوئٹر پر بچی کے اس جواب کو اپ لوڈ کیا ہے جسے چار لاکھ مرتبہ لائک کیا جا چکا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

گیون بیل لکھتے ہیں کہ وہ وضاحت کرنا چاہتے ہیں کہ ان کی بچی اپنی استاد سے بہت متاثر ہے، یہ صرف تعلیمی انصاف کا نظام ہے جس پر اسے اعتراض ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ بچی کی جانب سے لکھا گیا وہ جواب انھیں والدین کو دکھائے جانے والے بچوں کے کام کے فولڈر سے ملا۔

بہت سے والدین نے ایوا کے اس بیان پر کہا ہے کہ وہ وقت سے جلدی بڑی ہو گئی ہیں اور یہ تو فقط آغاز ہے۔

لیکن بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جو گیون بیل پر تنقید کر رہے ہیں۔

بچی کے والد نے ٹوئٹر پر ایک تصویر بھی لگائی ہے جس میں ان کی بیٹی نے دو آئس کریم پکڑ رکھیں ہیں۔ انھوں نے لکھا کہ ’لوگ بول چکے ہیں۔‘

اسی بارے میں