’جیرڈ کشنر نے بات چیت کی خفیہ لائن قائم کرنے کی بات کی تھی‘

ٹرمپ اور کشنر تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

امریکی میڈیا کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نے ماسکو کے ساتھ بات چیت کی خفیہ لائن قائم کرنے کے امکانات تلاش کرنے کی کوشش کی تھی۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ اور نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نے مبینہ طور پر گذشتہ برس دسمبر میں ایک میٹنگ کے دوران ایک چینل یا راہداری قائم کرنے پر تبادلۂ خیال کیا تھا۔

وائٹ ہاؤس کے سینيئر اہلکار جیرڈ کشنر نے تازہ رپورٹ پر ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

روس سے تعلقات کا معاملہ، ٹرمپ کے داماد سے بھی تفتیش

روس سے روابط: سابق ایف بی آئی سربراہ تحقیقات کریں گے

امریکہ کا وفاقی تحقیقی ادارہ ایف بی آئی سنہ 2016 میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں ممکنہ روسی مداخلت اور ٹرمپ کی انتخابی مہم سے روس کے روابط کے بارے میں تفتیش کر رہا ہے۔

خیال رہے کہ ایف بی آئی کی جانب سے روس کے ساتھ تعلقات کی وسیع تفتیش میں جیرڈ کشنر بھی تفتیش کے دائرے میں ہیں۔

امریکی میڈیا کے مطابق تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ جیرڈ کشنر کے پاس اہم معلومات ہیں، تاہم لازمی نہیں ہے کہ انھوں نے کسی غلطی کا ارتکاب کیا ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

تازہ ترین رپورٹس میں امریکی اہلکاروں کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ جیرڈ کشنر نے امریکہ میں روسی سفیر کی سفارتی سہولیات کا استعمال کرتے ہوئے بیک چینل قائم کرنے کے سلسلے میں موسکو کے سفیر سرگئی کسلیاک سے بات چیت کی تھی۔

امریکی اہلکارں کے مطابق اس بیک چینل کو شام کے معاملات اور دوسری پالیسیوں پر بات چیت کے لیے استعمال کیا جا سکتا تھا۔

اطلاعات کے مطابق ٹرمپ کے قومی سلامتی کے پہلے مشیر مائیکل فلن نیویارک میں ٹرمپ ٹاور میں منعقدہ میٹنگ میں موجود تھے۔

نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ یہ بیک چینل کبھی قائم نہیں کیا جا سکا۔

واشنگٹن پوسٹ نے پہلے ہی یہ بتا رکھا ہے کہ اس معاملے میں ایف بی آئی کے تفتیش کار جیرڈ کشنر کی کسلیاک اور ماسکو کے ایک بینکر سرگیئی گورکوف کے ساتھ گذشتہ سال ہونی والی ملاقات پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جیرڈ کشنر اور جنرل فلن کا نام روس کے ساتھ زیر تفتیش ملاقات میں آیا ہے

خیال رہے کہ جنرل فلن کو رواں برس فروری میں اس وقت مستعفی ہونا پڑا جب یہ بات سامنے آئی کہ انھوں نے انتظامیہ کے دوسرے اہلکاروں کو کسلیاک کے ساتھ اپنے تعلقات کی سطح کے بارے میں گمراہ کیا تھا۔

امریکی انٹیلیجنس ایجنسیوں کا خیال ہے کہ ماسکو نے گذشتہ برس نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات کو رپبلکن رہنما ٹرمپ کے حق میں کرنے کی کوشش کی تھی۔

صدر ٹرمپ نے روس کے متعلق جانچ کو 'امریکہ کی تاریخ میں کسی سیاستدان کے خلاف ہونے والی سب سے بڑی واحد وچ ہنٹ' قرار دیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں