مانچیسٹر خود کش حملے پر لیبیائی جہادی عناصر کی چھاپ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سلمان عبیدی کے فلیٹ سے کیمیکل کی بو آ رہی تھی

اگرچہ مانچسٹر میں گزشتہ پیر کو ہونے والے خودکش بم حملے کی ذمہ داری نام نہاد دولتِ اسلامیہ یا داعش نے قبول کی ہے لیکن اس حملے پر لیبیائی جہادی عناصر کی چھاپ عراق اور شام میں قائم اس شدت پسند تنظیم سے کہیں زیادہ گہری ہے۔

یہ امر صرف خود کش بمبار کے اپنے خاندانی پس منظر سے ہی ظاہر نہیں ہوتا بلکہ حملے کے بعد پولیس چھاپوں کے دوران جن افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ان کا تعلق بھی لیبیا سے ہی ہے۔

لیبیا لنک

مانچسٹر کو لیبیائی نژاد مسلمانوں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے جو لیبیا سے سابق رہنما معمر قذافی کے دور میں یہاں آکر آباد ہو گئے تھے۔ ان میں سے کچھ تو وہ لوگ تھے جو شروع میں تو قذافی کے ساتھ تھے لیکن بعد میں اس کی حمایت سے کنارہ کش ہو گئے اور اس کے غیض و غضب سے بچنے کے لیے مغربی ملکوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے تھے۔

Image caption سلمان عبیدی کے والد رمضان عبیدی اگرچہ سابق لیبیائی رہنما معمر قذافی کی فوج میں رہے لیکن بعد میں اس سے الگ ہو کر جہادی حلقوں سے منسلک ہو گئے تھے اور افغانستان اور چچنیا کے جہاد کا حصہ رہ چکے ہیں

لیکن اس کے علاوہ ایک بڑی تعداد ان لوگوں کی بھی ہے جو جہادی ذہنیت رکھتے تھے اور افغانستان اور چچنیا جیسے محاذوں پر سرگرم رہ چکے تھے اور وہاں سے جنگ کے خاتمے کے بعد واپس لیبیا جانے کے بجائے برطانیہ جیسے ملکوں میں بس گئے تھے۔

مانچسٹر کے خودکش بمبار سلمان عبیدی کا خاندان بھی اسی ذمرے میں آتا ہے۔ ان کے والد رمضان عبیدی اگرچہ سابق لیبیائی رہنما معمر قذافی کی فوج میں رہے لیکن بعد میں اس سے الگ ہو کر جہادی حلقوں سے منسلک ہو گئے تھے اور افغانستان اور چچنیا کے جہاد کا حصہ رہ چکے ہیں۔

مانچسٹر میں لیبیائی کمپیونٹی کے ایک سر گرم رکن اکرم رمضان کے مطابق اگرچہ رمضان عبیدی کبھی بھی باقاعدہ طور پر لیبیا اسلامی فائٹنگ گروپ کے رکن نہیں رہے لیکن ان کے اس کی قیادت کے ساتھ قریبی رابطے تھے۔

رمضان کا تعلق مشرقی لیبیا میں بسنے والے ایک بہت بڑے عبیدی قبیلے سے ہے۔ اس قبیلے کے ایک اہم رہنما کرنل قذافی کے قریبی ساتھی تھے جنہیں بعد میں قذافی کے حکم پر تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد ہلاک کر دیا گیا تھا۔

Image caption سلمان عبیدی نے اپنے آپ کو سالفورڈ یونیورسٹی کا طالب علم ظاہر کر کے فلیٹ سات ہفتوں کے لیے کرایے پر لیا تھا

مانچیسٹر خود کش حملے پر لیبیائی جہادی عناصر کی چھاپ

عبیدی قبیلے کا نام اس وقت بھی اخباری خبروں میں آیا تھا جب ایمان عبیدی ڈرامائی طور پر اس ہوٹل میں نمودار ہوئی تھی جہاں غیر ملکی میڈیا ٹھہرا ہوا تھا اور انھوں نے الزام لگایا کہ حکومتی دستوں نے ان پر تشدد کیا اور ان سے اجتماعی زیادتی کی۔

نیٹ ورک

مانچسٹر حملے کے بعد سلمان عبیدی کی بطور خود کش بمبار شناخت ہونے کے بعد گریٹر مانچسٹر پولیس نے سب سے پہلے ایلس مور روڈ پر واقع اس مکان پر چھاپا مارا جہاں ان کا خاندان رہائش پذیر رہا ہے۔ بعد میں پولیس نے ان کے بھائی اسماعیل عبیدی کو موریسن سٹور کے باہر سے گرفتار کیا اور کارلٹن روڈ پر واقع ان کے فلیٹ پر چھاپا مارا جہاں وہ اپنی نو بیاہتا بیوی کے ساتھ رہ رہے تھے۔

پولیس کا اگلا ہدف آسٹن ایونیو پر واقع سلمان عبیدی کے رشتہ داروں کا مکان تھا جہاں اس کے دو خالہ زاد بھائیوں کو گرفتار کیا گیا۔ بعد میں پولیس نے ان کے خالہ زاد بھائیوں کی باربر شاپ پر بھی چھاپہ مارا اور اس کی تلاشی کے بعد اسے سیل کر دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption عبیدی قبیلے کا نام اس وقت بھی اخباری خبروں میں آیا تھا جب ایک لیبیائی خاتون ایمان عبیدی ڈرامائی طور پر اس ہوٹل میں نمودار ہوئی تھی جہاں غیر ملکی میڈیا ٹھہرا ہوا تھا اور انھوں نے الزام لگایا کہ حکومتی دستوں نے ان پر تشدد کیا اور ان سے اجتماعی زیادتی کی۔

یہ تمام پراپرٹیز جس علاقے میں واقع ہیں وہیں دولتِ اسلامیہ کے ایک کارکن رافیل ہوسٹی کا گھر بھی ہے جو گزشتہ سال شام میں ایک ڈرون حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ گزشتہ سال ہی سامنے آنے والے کچھ دستاویزات میں اس بات کی نشاندہی کی گئی تھی کہ رافیل ہوسٹی مانچسٹر کے علاقے سے دولتِ اسلامیہ میں شامل ہونے والے بہت سے جنگجوؤں کے ریکروٹر اور تعارف کنندہ ہیں۔

علاقے کے کچھ رہائشیوں نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ سلمان عبیدی، ان کا بھائی ہاشم اور ان کے کزن رافیل ہوسٹی کے ساتھ دیکھے جاتے رہے ہیں۔

اس دوران کی جانے والی باقی گرفتاریاں بھی لیبیائی نژاد افراد کی ہیں جن سے پولیس سلمان عبیدی سے تعلق کی بنیاد پر تفتیش کرنا چاہتی ہے۔

بم فیکٹری

ان ابتدائی چھاپوں کے علاوہ پولیس نے جن عمارتوں پر اپنی توجہ مرکوز کی ہوئی ہے ان میں بلیکلی روڈ پر واقع ایک عمارت ہے جس کی بارہویں منزل ہر سلمان عبیدی نے حال ہی میں ایک فلیٹ کرائے پر لیے رکھا تھا، جسے پولیس کے مطابق وہ ایک بم فیکٹری کے طور پر استعمال کرتے رہے تھے۔ پولیس نے فلیٹ کے اصل الاٹی ایمن الوافائی کو گرفتار کر رکھا ہے جنہوں نے اس فلیٹ کو کرایے پر دینے کا اشتہار کلاسیفائیڈ اشتہارات کے ویب سائٹ گم ٹری پر دیا تھا۔

ایمن کے ایک دوست نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ سلمان عبیدی نے یہ فلیٹ سات ہفتوں کے لیے کرایے پر یہ کہہ کر لیا تھا کہ وہ سالفورڈ یونیورسٹی کے طالب علم ہیں حلانکہ وہ دو سال پہلے یونیورسٹی چھوڑ چکے تھے۔ اس دوست نے ایمن کے حوالے سے بتایا کہ جب وہ سلمان کے چلے جانے کے بعد فلیٹ میں آئے تو اس کی بجلی اور گیس بند تھی اور اس کے قالین سے کیمیکل کی تیز بدبو آرہی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption لیبیا میں ایک جنگجو

پولیس نے اس فلیٹ کی موجودہ رہائشی خاتون کو بھی گرفتار کیا تھا لیکن بعد میں انہیں بغیر چارج کیے چھوڑ دیا گیا تھا۔

ایک اور عمارت جس پر پولیس نے چھاپا مارا وہ مانچسٹر پکاڈلی سٹیشن کے قریب ہی واقع وہ فلیٹ تھا جسے سلمان عبیدی نے بم کو بنانے کے لیے استعمال کیا تھا۔ وہ اسی فلیٹ سے پیر کی رات کو خود کش کارروائی کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ انھوں نے یہ فلیٹ گزشتہ بدھ کو لیبیا سے استنبول اور جرمن شہر ڈزلڈوف کے راستے واپس آنے کے بعد کرایے پر لیا تھا۔

متعلقہ عنوانات