برطانوی پولیس نے مانچیسٹر حملہ آور کی تصویر جاری کر دی

مانچیسٹر حملہ آور تصویر کے کاپی رائٹ GREATER MANCHESTER POLICE

برطانوی پولیس نے مانچیسٹر ارينا کے خود کش حملہ آور سلمان عبیدی کی سی سی ٹی وی میں قید تصاویر جاری کر دی ہے۔

گذشتہ پیر کو ہونے والے اس حملے میں 22 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔

حملے کے بعد سے شدت پسند جرائم کے شبے میں 14 مقامات کی تلاشی لی جا رہی ہے اور اب تک 11 افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔

ماچیسٹر حملہ: تحقیقات میں پیش رفت، برطانیہ میں خطرے کی سطح کم کر دی گئی

مانچیسٹر حملہ: سلمان عبیدی کون تھا؟

مانچیسٹر ایرینا کا حملہ آور لیبیائی نژاد سلمان عبیدی ہے: پولیس

پولیس کا کہنا ہے کہ عبیدی کی شناخت پیر کو حملے کے دو گھنٹے بعد ہی کر لی گئی تھی۔

ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ عبیدی کی جاری کردہ تصویر پیر کی شام کی ہے یا کہیں اور سے لی گئی ہے۔

دریں اثنا برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے نے ملک بھر میں دہشت گردی کے خطرے کی سطح کو 'سنگین' سے کم کر کے 'شدید' کر دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اس اعلان کا مطلب ہے کہ ملک میں دہشت گرد کارروائی کے خطرات تو ہیں لیکن زیادہ امکانات نہیں ہیں۔

خطرے کی سطح کو کم کرنے کے بعد پولیس کی مدد کے لیے طلب کیے جانے والے فوجیوں کو رفتہ رفتہ بیرکوں میں واپس بھیجا جا رہا ہے۔

گریٹر مانچیسٹر پولیس نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ حملہ آور کی 18 مئی کے بعد کی حرکتوں کی معلومات دیں کیونکہ پولیس کے مطابق عبیدی اسی دن برطانیہ واپس آئے تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات تیزی سے آگے کی سمت بڑھ رہی ہیں اور سینکڑوں پولیس ملازم گریٹر مانچیسٹر کی حفاظت کے لیے تعینات ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ 13 لوگوں کو گریٹر مانچسٹر، واروكشائر اور مرسيساڈ سے گرفتار کیا گیا۔

پویس کے مطابق ابتدائی تفتیش کے بعد ایک خاتون اور ایک 16 سالہ لڑکے کو رہا کر دیا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ عبیدی آخری بار اپنے سٹی سینٹر والے فلیٹ میں گئے تھے۔ ممکن ہے ارينا کے لیے نکلنے سے پہلے انھوں نے وہاں حملے کی آخری تیاری کی ہو۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں