'تم ہیرو تھے اور ہمیشہ ہیرو رہوگے'

نامکائی میشے تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK

امریکہ میں دو نوجوان لڑکیوں کو بچاتے ہوئے مارے جانے والے ایک شخص کی والدہ نے اپنے بیٹے کو 'ہیرو' کہا ہے جو ان کے لیے 'ہمیشہ ہیرو رہے گا۔'

جمعے کو امریکی ریاست اوریگن کے پورٹ لینڈ میں ایک شخص نے دو افراد کو چاقو مار کر ہلاک کر دیا۔ ان میں سے ایک ٹالیسن مائرڈن نامکائی میشے تھے۔

پولیس نے مرنے والے دوسرے 53 سالہ شخص کا نام رکی جان بیسٹ بتایا ہے۔ وہ چار بچوں کے والد اور سابق فوجی تھے۔

حملہ آور نے گرفتار ہونے سے قبل ان کے علاوہ ایک اور شخص کو زخمی کر دیا تھا۔

مسلمان خواتین کو دھمکانے سے روکنے پر دو افراد قتل

امریکہ میں ٹرمپ مخالف مظاہرے ہنگاموں میں تبدیل

فلوریڈا فائرنگ کا مشتبہ حملہ آور گرفتار

پولیس نے حملہ آور کی شناخت 35 سا لہ جیریمی جوزف کرسٹیئن کے طور پر کی ہے جو کہ سزایافتہ مجرم ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ملزم کو منگل کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ ملزم پر دو افراد کے قتل، تیسرے شخص کو قتل کرنے کی کوشش اور ڈرانے دھمکانے کا بھی الزام ہے۔ اس کے علاوہ سزا یافتہ مجرم ہونے کے ناطے اس کے پاس ہتھیار کا ہونا بھی قابل تعزیر ہے۔

اوریگن میں وفاقی تفتیشی ادارے ایف بی آئی کے سپیشل ایجنٹ اور سربراہ لارین کینن کا کہنا ہے کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ آیا یہ پرتشدد واقعہ دیسی دہشت گردی ہے یا پھر وفاقی لحاظ سے نفرت پر مبنی جرم۔'

تصویر کے کاپی رائٹ CBS/EVN

جمعے کو دو نوجوان لڑکیا پورٹ لینڈ میں ٹرین پر سوار ہوئیں جن میں سے ایک مسلمان تھی اور اس نے سکارف پہنا ہوا تھا۔

ایک لڑکی کی والدہ ڈائجوانا ہڈسن نے بتایا کہ کرسچین نے ان لڑکیوں کو دیکھ کر کہنا شروع کیا کہ 'تمام مسلمانوں کو مر جانا چاہیے۔‘

مسز ہڈسن نے بتایا کہ اس کے بعد تین افراد لڑکیوں کی مدد کے لیے آگے بڑے اور ان میں سے ایک نے کہا: 'یہ بچیاں ہیں تم ان کے ساتھ اس طرح نہیں کر سکتے۔'

سارجنٹ پیٹ سمپسن نے مشتبہ شخص کے ٹرین پر ہونے اور نفرت انگیز زبان کے استعمال کے ساتھ چیخنے کی تصدیق کی ہے۔

سارجنٹ سمپسن نے بتایا کہ پھر اس مشتبہ شخص نے لڑکیوں کی حمایت میں آنے والوں پر حملہ کر دیا جن میں سے دو کی موت ہو گئی اور ایک زخمی ہو گیا۔

لڑکیاں اس واقعے سے اس قدر گھبرا گئیں، وہ چیختی ہوئی بھاگ گئیں اور انھوں نے یہ بھی نہ دیکھا کہ ان کے مددگار زخمی ہو گئے ہیں۔ اس کے بعد کرسٹیئن کو گرفتار کر لیا گیا۔

سابق فوجی بیسٹ حملے کے وقت اپنے گرر واپس جا رہے تھے۔ ان کے ایک دوست نے اوریگن لائیو کو بتایا کہ وہ پہلا آدمی ہوتا جو کسی کی مدد کو جاتا۔'

مسٹر نامکائی میشے اس وقت فون پر اپنی آنٹ سے بات کر رہے تھے جب مشتبہ شخص لڑکیوں سے متصادم تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

انھوں نے کہا کہ میں نے نامکائی میشے کو فون چھوڑ کر وہاں رونما ہونے والے واقعات کی ریکارڈنگ کرنے کے لیے کہا تھا۔

انھون نے ایک ٹی وی کو بتایا 'میں یہ نہیں چاہتی تھی کہ وہ خود ہیرو بنے اور مارا جائے لیکن وہ لڑکیوں کو بچانے کی کوشش کر رہا تھا۔'

ان کی والدہ نے فیس بک پر اپنے بیٹے کے لیے اظہار عقیدت پیش کیا ہے۔

انھوں نے لکھا: 'وہ ایک ہیرو تھا اور پردے کی دوسری طرف بھی ہیرو ہی رہے گا۔ میرے چکمتے ستارے میں تم سے ہمیشہ پیار کرتی ہوں۔'

ٹرین میں سوار ایک لڑکی کی والدہ مسز ہڈسن نے لکھا: 'شکریہ۔ تمہارا شکریہ، تم ہمیشہ ہمارے ہیرو رہوگے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں