’ایم آئی فائیو کو عبیدی کے بارے میں تین بار خبردار کیا گیا تھا‘

برطانیہ سکیورٹی تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption پولیس نے حملے کے بعد سے تحقیقات کے دوران 16 افراد سے پوچھ گچھ کی ہے جن میں سے 14 تاحال زیرِ حراست ہیں

برطانیہ خفیہ ادارہ ایم آئی فائیو مانچیسٹر میں خودکش حملہ کرنے والے سلمان عبیدی کے بارے میں عوامی انتباہ پر اپنے ردعمل کے بارے میں تحقیقات کرے گا۔

برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کی اندرونی سکیورٹی پر نظر رکھنے والا یہ ادارہ 22 سالہ حملہ آور کے بارے میں لگائے گئے اندازوں کا جائزہ لے گا اور دیکھے گا کہ خودکش حملے کے خطرے کو کیسے اور کیوں نظرانداز کیا گیا۔

ماچیسٹر حملہ: تحقیقات میں پیش رفت، برطانیہ میں خطرے کی سطح کم کر دی گئی

مانچیسٹر حملہ: سلمان عبیدی کون تھا؟

مانچیسٹر ایرینا کا حملہ آور لیبیائی نژاد سلمان عبیدی ہے: پولیس

ان تحقیقات کا فیصلہ یہ بات سامنے آنے کے بعد کیا گیا ہے کہ ایم آئی فائیو کو سلمان عبیدی کے انتہاپسند خیالات کے بارے میں کم از کم تین بار مطلع کیا گیا تھا۔

مذکورہ حملہ آور نے گذشتہ پیر کو مانچیسٹر میں امریکی گلوکارہ آریانا گرینڈے کے ایک کنسرٹ کے اختتام پر خود کو دھماکے سے اڑا لیا تھا اور اس حملے میں سات بچوں سمیت 22 افراد ہلاک اور 50 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔

سنہ 2005 میں لندن میں زیرِ زمین ٹرینوں کے نظام پر ہونے والے خودکش حملوں کے بعد یہ برطانیہ میں دہشت گردی کی سب سے بڑی کارروائی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ GREATER MANCHESTER POLICE
Image caption پولیس کے مطابق عبیدی کی شناخت پیر کو حملے کے دو گھنٹے بعد ہی کر لی گئی تھی

پیر کی صبح پولیس نے اس حملے کی تحقیقات کے دوران مغربی سسیکس سے ایک 23 سالہ شخص کو حراست میں لیا ہے جبکہ اتوار کو مانچیسٹر سے ایک 19 سالہ اور ایک 25 سالہ شخص کو پکڑا گیا تھا۔

پولیس نے حملے کے بعد سے تحقیقات کے دوران 16 افراد سے پوچھ گچھ کی ہے جن میں سے 14 تاحال زیرِ حراست ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں اور سینکڑوں پولیس اہلکار گریٹر مانچیسٹر کی حفاظت کے لیے تعینات ہیں۔

گذشتہ روز برطانوی پولیس نے مانچیسٹر ایرينا کے خودکش حملہ آور سلمان عبیدی کی سی سی ٹی وی سے لی گئی تصاویر بھی جاری کی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption برطانیہ میں دہشت گردی کے خطرے کی سطح کو 'سنگین' سے کم کر کے 'شدید' کر دیا گیا ہے

پولیس کے مطابق عبیدی کی شناخت پیر کو حملے کے دو گھنٹے بعد ہی کر لی گئی تھی تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ تصویر پیر کی شام کی ہے یا کہیں اور سے لی گئی ہے۔

گریٹر مانچیسٹر پولیس نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ حملہ آور کی 18 مئی کے بعد کی حرکات و سکنات کی معلومات دیں کیونکہ پولیس کے مطابق عبیدی اسی دن برطانیہ واپس آئے تھے۔

ادھر برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے نے ملک بھر میں دہشت گردی کے خطرے کی سطح کو 'سنگین' سے کم کر کے 'شدید' کر دیا ہے۔ اس اعلان کا مطلب ہے کہ ملک میں دہشت گرد کارروائی کے خطرات تو ہیں لیکن زیادہ امکانات نہیں ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں