پیرس: سیاہ فاموں کے لیے مخصوص میلے پر میئر ناراض

تصویر کے کاپی رائٹ NYANSAPO FESTIVAL

پیرس کی میئر نے شہر میں سیاہ فام خواتین کے ایک میلے پر اس بنیاد پر پابندی لگانے کی تجویز دی ہے کہ وہاں سفید فاموں کو جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

نیاساپو فیسٹیول نامی میلہ جولائی میں منعقد ہونا ہے اور اس میں 80 فیصد جگہ سیاہ فام خواتین کے لیے مخصوص ہوگی۔

کسی بھی صنف کے سیاہ فاموں کو اس میلے میں ایک اور مخصوص حصے میں جانے کی اجازت ہو گی جبکہ تیسرے حصے تک ہر کسی کی رسائی ہوگی۔

میئر این ہیڈالگو نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ وہ اس میلے کے منتظمین کے خلاف امتیازی سلوک کا مظاہرہ کرنے پر مقدمہ چلانے کا حق محفوظ رکھتی ہیں۔

فرانس میں نسل پرستی کی مخالف کچھ تنظیموں نے بھی اس میلے پر کڑی تنقید کی ہے۔

ایس او ایس ریسزم نامی تنظیم نے اسے 'مکروہ' حرکت قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے نسلی تفریق کو ہوا ملے گی۔

جمعے کو انتہائی دائیں بازو کے خیالات کی حامی نیشنل فرنٹ پارٹی نے پیرس کی میئر سے اس 'واضح طور پر نسل پرستانہ' تقریب کے بارے میں وضاحت کرنے کو کہا تھا۔

اس میلے کے منتظمین نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ 'غلط بیانی اور جعلی خبروں کی ایک مہم کا نشانہ بنے ہیں جو کہ انتہائی دائیں بازو کے خیالات والے عناصر چلا رہے ہیں۔'

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نسل پرستی کی مخالف تنظیموں کا خود کو اس سلسلے میں استعمال ہونے دینا افسوسناک ہے۔

یہ میلہ ایک ایسے مقام پر منعقد ہونا ہے جس کی مالک پیرس کی شہری حکومت ہے تاہم جس تقریب میں صرف سیاہ فام خواتین کو داخلے کی اجازت ہو گی وہ ایک عوامی مقام پر منعقد ہوگی۔

تقریب کے منتظمین کے مطابق پیرس کی میئر کا اس مقام پر کوئی اختیار نہیں ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں