رمضان میں طلاق کے فیصلے دینے سے گریز کریں: فلسطینی جج

شادی تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

فلسطین کی شرعی عدالت کے سربراہ نے ججوں کو حکم دیا ہے کہ رمضان کے مہینے میں طلاقوں کے فیصلے دینے سےگریز کریں کیونکہ روزے کے دوران ایسے الفاظ نکل سکتے ہیں جن پر بعد میں پشیمانی ہو۔

شرعی عدالت کے سربراہ جج محمود حبش نے کہا کہ انھوں نے یہ حکم گذشتہ کئی سالوں کے تجربے کی روشنی میں دیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان کا تجربہ کہتا ہے کہ صبح سے شام تک روزہ رکھنے اور سگریٹ نوشی نہ کرنے کے باعث مزاج گرم ہو جاتا ہے اور سخت الفاظ نکل جاتے ہیں۔

'کچھ وجہ یہ ہوتی ہے کہ لوگوں نے کچھ کھایا نہیں ہوتا اور سگریٹ نوشی نہیں کی ہوتی جس کے وجہ سے شادی شدہ زندگی میں مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اور ایسے میں جلد بازی میں فیصلے کیے جاتے ہیں جو سوچ سمجھ کر نہیں کیے جاتے۔'

فلسطینی اتھارٹی کے حکام کے مطابق مغربی کنارے اور غزہ میں 50 ہزار شادیاں ہوئیں جبکہ آٹھ ہزار طلاقیں ہوئیں۔

حکام کے مطابق بے روزگاری اور غربت طلاق کی بڑی وجوہات ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں