بغداد میں دو کار بم دھماکوں میں 26 افراد ہلاک

بغداد، دھماکہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کا کہنا ہے کہ دونوں حملوں کا ہدف شیعہ مسلمان تھے

عراق کے دارالحکومت بغداد کے وسطی علاقے میں ہونے والے کار بم دھماکوں میں کم از کم 26 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔

شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

عراق: بغداد میں تیسرے دن میں تیسرا دھماکہ، 48 ہلاک

پہلا دھماکہ پیر اور منگل کی درمیابی شب کرادہ کے علاقے میں ایک معروف آئس کریم پارلر میں ہوا جہاں لوگوں کی بڑی تعداد جمع تھی۔

حکام کا کہنا ہے کہ آئس کریم پارلر کو ایک خودکش حملہ آور نے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 15 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

ضلع کرادہ میں زیادہ تر شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے مسلمان آباد ہیں اور اطلاعات کے مطابق دھماکے میں 60 سے زیادہ افراد زخمی بھی ہوئے۔

چند گھنٹے بعد اس دھماکے کے مقام سے چند کلومیٹر دور واقع شہدا پل پر ایک اور کار بم پھٹا جس میں 11 افراد مارے گئے۔

شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کا کہنا ہے کہ دونوں حملوں کا ہدف شیعہ مسلمان تھے۔

خیال رہے کہ گذشتہ رمضان میں کرادہ کے ہی ایک مصروف علاقے میں سڑک پر رکھا ہوا بم پھٹا تھا اور ساتھ ہی کار بم دھماکہ ہوا تھا۔ دھماکے کے وقت وہاں لوگ عید کے سلسے میں شاپنگ کر رہے تھے اور تحائف کی خریداری کر رہے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں