انڈونیشیا میں مذہبی رہنما پر فحاشی کے الزام کے تحت مقدمہ

فحش تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رزیق شہاب اس سال فروری میں جکارتہ کے سابق گورنر بسوکی تجھاجہ پرنام کے خلاف عدالت میں جاری سماعت کے دوران

انڈونیشیا میں پولیس نے ایک متنازع مبلغ کو فحاشی کے الزام میں مرکزی ملزم نامزد کر دیا ہے۔

رزیق شہاب پر الزام ہے کہ انھوں نے ایک عورت سے گفتگو کے دوران عریاں تصاویر اور فحش پیغامات کا تبادلہ کیا تھا۔ اس وقت سعودی عرب میں موجود رزیق شہاب نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

جکارتہ کے گورنر بسوکی تجھاجہ ہیں کون؟

جکارتہ کے گورنر توہین مذہب کے مقدمے میں قصوروار

رزیق شہاب انڈونیشیا میں اسلامک ڈیفینڈرز فرنٹ پارٹی (ایف پی آئی) کے سربراہ ہیں جس نے جکارتہ کے سابق گورنر بسوکی تجھاجہ پرنام کے خلاف توہین مذہب کرنے کی وجہ سے پر زور احتجاج اور مظاہرے کیے تھے۔

مئی کے آغاز میں 'آہوک' کے نام سے مشہور گورنر پرناما پر اس متنازع مقدمے میں توہین مذہب کا الزام ثابت ہونے پر دو برس قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

رزیق شہاب اپنی دھواں دھار تقاریر کے لیے مشہور ہیں اور ماضی میں دو دفعہ ان کو تشدد اور امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کے الزام میں جیل ہو چکی ہے۔

حالیہ مقدمے میں رزیق شہاب پر الزام ہے کہ انھوں نے انڈونیشیا میں فحاشی پر پابندی کے لیے بنائے گئے سخت قوانین کی خلاف ورزی کی ہے اور فرزا حسین نامی ایک سماجی کارکن کے ساتھ فحش مواد کا تبادلہ کیا ہے۔

اس کیس میں فرزا حسین کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔

دونوں کے درمیان بھیجے گئے پیغامات کے سکرین شاٹس اس سال کے آغاز سے انٹرنیٹ پر موجود ہیں۔

پولیس نے رزیق شہاب کو اپریل سے تفتیش کی غرض سے طلب کیا لیکن وہ ابھی تک پولیس کے سامنے پیش نہیں ہوئے ہیں اور اپنے خاندان والوں کے ساتھ اس وقت سعودی عرب میں موجود ہیں۔

ایف پی آئی کے ترجمان نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے کو بتایا ہے کہ رزیق شہاب پر لگائے جانے والے الزامات میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں