جرمنی: نوجوان خودکش حملہ کرنے سے پہلے گرفتار

برلن تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption برلن میں کرسمس کے موقعے پر دہشت گرد حملے میں 12 افراد مارے گئے تھے

جرمن پولیس نے ایک نوجوان پناہ گزین کو گرفتار کیا ہے جس پر شبہ تھا کہ وہ برلن میں خودکش حملہ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

وزیرِ داخلہ کارل ہائنز شروئٹر نے بتایا کہ 17 سالہ نوجوان کو برینڈن برگ کے قریب اوکرمارک قصبے میں گرفتار کیا گیا۔

پولیس کے مطابق وہ 2015 میں جرمنی میں داخل ہوئے تھے۔ تاہم پولیس نے ان اطلاعات کی تصدیق نہیں کی کہ نوجوان کا تعلق شام سے ہے۔

یاد رہے کہ دسمبر میں ایک جہادی نے برلن میں ایک لاری کو لوگوں پر چڑھا کر 12 افراد کو ہلاک کر ڈالا تھا۔

یہ حملہ تیونس کے شہری انیس امری نے کیا تھا۔ اس سے ملک کی سکیورٹی سروسز سخت دباؤ کا شکار ہو گئی تھیں کیوں کہ انیس کسی کی نظر میں آئے بغیر ملک میں داخل ہونے میں کامیاب رہے تھے۔

برینڈن برگ پولیس نے ایک ٹویٹ کے ذریعے بتایا کہ نوجوان کو سپیشل فورسز نے مخبری پر گرفتار کیا۔ نوجوان نے اپنے خاندان کو ایک پیغام بھیجا تھا جس میں انھیں خدا حافظ کہتے ہوئے بتایا تھا کہ وہ 'جہاد' میں حصہ لے رہا ہے۔

شروئٹر نے بتایا کہ نوجوان نے اپنے خاندان والوں سے کہا تھا کہ وہ ’خودکش حملہ‘ کرنے جا رہا ہے۔

جرمن وزارتِ داخلہ نے نوجوان کی شہریت شامی بتائی ہے تاہم پولیس نے ٹوئٹر کے ذریعے کہا کہ شہریت یا حملے کی تفصیلات کی تصدیق ابھی نہیں ہو سکی، اور یہ کہ تحقیقات جاری ہیں۔

یہ نوجوان 2016 سے اکرمارک میں نو عمر پناہ گزینوں کی ایک پناہ گاہ میں مقیم تھے اور وہ پہلے پولیس کی نظر میں نہیں تھے۔

پولیس نے کہا کہ ان سے تفتیش جاری ہے، لیکن تفصیلات نہیں بتائی جا سکتیں۔

جرمنی میں گذشتہ برس دو لاکھ 80 ہزار پناہ گزین داخل ہوئے تھے، تاہم یہ تعداد 2015 کے مقابلے پر کہیں کم ہے جب چھ لاکھ پناہ گزین ملک میں آئے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں