’انھیں شیر پسند تھے، اور شیر نے ہی جان لے لی‘

روزا کنگ تصویر کے کاپی رائٹ HAMERTON ZOO PARK/FACEBOOK
Image caption روزا کنگ چڑیا گھر کے درندوں کے شعبے میں کام کرتی تھیں

برطانیہ میں کیمبرج شائر کے چڑیا گھر ہیمرٹن زو پارک میں 34 سالہ روزا کنگ پیر کو ایک شیر کے حملے میں ماری گئیں۔

انھیں جانور پسند تھے لیکن انھیں معلوم نہیں تھا یہ کام ہی ایک دن ان کے لیے جان لیوا ثابت ہو گا۔

روزا کنگ کی ماں اینڈریا کہتی ہیں: 'اسے یہی کام پسند تھا۔'

یہ حادثہ اس وقت ہوا جب ایک شیر اس پنجرے میں گھس آیا، جس میں روزا موجود تھیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ روزا کنگ کو جس شیر نے مارا، اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔ چڑیا گھر انتظامیہ نے روزا کی موت کو غیر متوقع حادثہ بتایا ہے۔

ان کے دوست گیری چشولم کے مطابق ’روزا اس چڑیا گھر کا مرکز اور چمکتی روشنی تھی۔'

وہ کہتے ہیں: 'روزا کنگ ہیمرٹن زُو کی ایک ملازم ہی نہیں تھیں، وہ خود ہیمرٹن زو تھیں۔ انھیں شیر سب سے زیادہ پسند تھے۔'

عینی شاہدین نے بی بی سی کو بتایا کہ جب شیر نے حملہ کیا تو انھوں نے چیخیں سنی تھی اور اس کے بعد بہت سے ملازم پنجرے کی طرف دوڑے۔

ان کے مطابق شیر کی توجہ بٹانے کے لیے ملازمین نے گوشت کے ٹکڑے بھی پھینکے۔ یہ سب کچھ 10یا 15 منٹ تک چلا۔

'شیر اکیلے رہنا پسند کرتے ہیں'

تصویر کے کاپی رائٹ PAPERPIX.UK
Image caption دھاری دار شیر تنہائی پسند جانور ہے

جنگلی جانوروں کے ماہر سٹیو بیكشل کہتے ہیں کہ ببّر شیروں کے برعکس دھاری دار شیر (ٹائیگر) اکیلے رہنا پسند کرتے ہیں۔ جنگلوں میں ان کے علاقے بڑے رقبے پر مشتمل ہوتے ہیں اور وہ دوسرے شیروں سے بہت کم ہی رابطے میں آتے ہیں۔

’اس کے مقابلے پر چڑیا گھر میں انھیں بہت چھوٹی سی جگہ میں رکھا جاتا ہے جس سے وہ تناؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔‘

ہیمرٹن زو نے ایک بیان میں کہا ہے: 'یہ غیر متوقع واقعہ ہے۔ اب تک ہمارا کوئی بھی جانور پنجرے سے نہیں بھاگا اور نہ ہی کسی کو خطرے میں ڈالا ہے۔'

روزا کی پوسٹ مارٹم کی رپورٹ اب آنے والی ہے اور چڑیا گھر کا کہنا ہے کہ معاملے کی جانچ کی جا رہی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں