بحرین میں عدالت نے حزب اختلاف کے مرکزی سیکولر گروپ کو تحلیل کرنے اور اثاثے ضبط کرنے کا حکم دیا ہے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

خلیجی ملک بحرین کی عدالت نے بدھ کو حزب اختلاف کے مرکزی سیکولر گروپ نیشنل ڈیموکریٹک ایکشن سوسائٹی (وعد) کو تحلیل کرنے کا حکم دیا ہے۔

بحرین کی حکومت وعد پر شدت پسندی کی حمایت کرنے کا الزام لگاتی ہے۔

عدالت کے اس حکم پر انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنان کا کا کہنا ہے کہ یہ حکم کا مقصد پرامن مخالفت کو خاموش کرنا ہے۔

بحرین: عوام پر فوجی عدالت میں مقدموں کی منظوری

بحرین میں تین شیعہ افراد کو سزائے موت دے دی گئی

بحرین میں جیل پر حملے میں کئی قیدی رہا

وعد ایک سماجی اور سیاسی ایسوسی ایشن ہے جو جمہوریت، انسانی حقوق اور سماجی آزادی کے حق میں آواز بلند کرتی ہے۔

وعد نے ٹویٹ میں میں کہا ہے کہ عدالت نے حکم دیا ہے کہ اس ایسوسی ایشن کو تحلیل کر دیا جائے اور اس کے اثاثے ضبط کر لیے جائیں۔

واضح رہے کہ اس حکم کے خلاف وعد اپیل کر سکتی ہے۔

وعد کے خلاف بحرین کی وزارت انصاف نے مقدمہ دائر کیا تھا جس میں اس پر قانون کا احترام نے کرنا، دہشت گردی کی حمایت کرنا اور تشدد کی اجازت دینے کے الزامات لگائے گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

وزارت انصاف کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ وعد نے ان افراد کو 'ملک کے شہدا' قرار دیا ہے جنھوں نے 2014 میں ایک بم حملے میں تین پولیس اہلکاروں کو ہلاک کیا تھا۔

ان افراد کو رواں سال کے آغاز میں سزائے موت دے دی گئی تھی۔

وعد کے رہنما نے ٹویٹ کیا کہ عدالتی فیصلے کے بعد پولیس نے وعد کے ہیڈ کوارٹر کے قریب سڑکوں کو بند کر دیا ہے۔ یہ قدم اس وقت لیا گیا جب وعد نے شام کو صحافیوں کو بریفنگ دینی تھی۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ عدالتی حکم اظہار رائے کی آزادی کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

ایمنسٹی کی لبنان میں ڈائریکٹر ریسرچ نے کہا 'اہم سیاسی حزب اختلاف کے گروپس پر پابندی عائد کر کے بحرین انسانی حقوق کی مکمل پامالی کی جانب بڑھ رہا ہے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں