’ہنڈائی کمپنی نے حیض کے باعث کنٹریکٹ ختم کر دیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Philípe Alexander

امریکہ میں ایک ماڈل نے گاڑیاں بنانے والی کمپنی ہنڈائی کے خلاف رپورٹ کی ہے کیونکہ کمپنی نے ان کو نوکری سے اس لیے نکال دیا کہ وہ حیض کے دنوں میں تھیں۔

27 سالہ ریچل رکرٹ کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ اپریل میں نیو یارک انٹرنیشنل آٹو شو میں ہنڈائی کی گاڑیوں کی نمائش کر رہی تھی۔

انھوں نے بتایا کہ انھوں نے کمپنی کو صاف کہہ دیا تھا کہ ان کو غسل خانے جانے کے لیے بریک چاہیے لیکن ان سے کہا گیا کہ یہ بہت مصروف وقت ہے۔

ہنڈائی امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ اس الزام کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

ریچل رکرٹ نے کہا کہ ان کو دیر سے غسل خانے جانے کی اجازت دینے کے باعث ان کو اپنا زیر جامہ اور ٹائٹس تبدیل کرنی پڑی۔ انھوں نے اپنی مینیجر ایریکا سیفرڈ کو اس واقعے سے آگاہ کیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کو بعد میں سیفرڈ نے ایک ٹیکسٹ میسج کیا جس میں کہا گیا تھا کہ ہنڈائی کمپنی چاہتی ہے کہ وہ ایک دن آرام کریں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ریچل رکرٹ نے اس قسم کے کم از کم 50 شوز میں حصہ لیا ہوا ہے

ریچل رکرٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے ایسا کرنے کی مخالفت کی کیونکہ ان کو معاوضہ فی گھنٹے کے حساب سے مل رہا تھا۔ انھوں نے کہا کہ وہ اگلے دن یعنی 14 اپریل کو دوبارہ کام پر گئیں۔

'15 اپریل کو سیفرڈ نے مجھے فون کیا اور کہا کہ ہنڈائی مجھے مزید کام دینا نہیں چاہتی کیونکہ ان کو میرے حیض کے بارے میں علم ہو گیا ہے۔'

'مجھے بڑی حیرت ہوئی اور افسوس ہوا۔ میں رونے لگ گئی ۔۔۔ میں نے دیگر آفرز کو اس شو کے لیے انکار کیا تھا۔ میں نے سوچا کیا یہ کیا ہو رہا ہے؟ یہ صحیح نہیں ہے اور حیض ایک قدرتی چیز ہے۔'

ریچل رکرٹ نے ہنڈائی اور سیفرڈ کے خلاف شکایت دائر کی ہے۔

ریچل رکرٹ نے اس قسم کے کم از کم 50 شوز میں حصہ لیا ہوا ہے۔ انھوں نے مزید کہا 'میں لوگوں کو عورتوں کے ساتھ اس طرح سے سلوک نہیں کرنے دوں گی۔ حیض ایک قدرتی چیز ہے اور ایسا نہیں کہ میں کوئی خاص قسم کے سلوک کی توقع کر رہی تھی۔ میں صرف یہ چاہ رہی تھی کہ مجھ سے انسانوں والا سلوک کیا جائے اور مجھے غسل خانے جانے دیا جائے۔'

ہنڈائی امریکہ کا کہنا ہے کہ ان کو ابھی تک شکایت موصول نہیں ہوئی ہے لیکن وہ اس واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں