لیو ورادکر بنیں گے آئرلینڈ کے پہلے ہم جنس پرست وزیراعظم

تصویر کے کاپی رائٹ Patrick Bolger
Image caption لیو ورداکر نے 2015 میں ایک انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا تھا کہ وہ ہم جنس پرست ہیں

انڈین نژاد آئرش سیاستدان لیو ورادکر آئرلینڈ کی مخلوط حکومت میں سب سے بڑی جماعت فینے گیل کے لیڈر منتخب ہوگئے ہیں۔

38 سالہ لیو ورادکر آنے والے دنوں میں نا صرف ملک کے سب سے کم عمر بلکہ پہلے ہم جنس پرست وزیراعظم بنیں گے۔

’نصف انڈین‘ اور ہم جنس پرست اگلا وزیرِاعظم؟

انھوں نے 2015 میں ایک انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا تھا کہ وہ ہم جنس پرست ہیں۔

اپنی جیت کی اعلان کے بعد جمعے کی شام ان کا کہنا تھا کہ ان کے سامنے ’بہت بڑا چیلنج‘ ہے جسے قبول کرنا ان کے لیے ’اعزاز‘ کی بات ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میرے انتخاب سے اگر کوئی بات واضح ہوتی ہے تو وہ یہ کہ ملک میں تعصب کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔‘

’جب میرے والد نے آئرلینڈ میں ایک نیا گھر بنانے کے لیے پانچ ہزار میل کا سفر کیا تھا تو میرے خیال میں انہوں نے کبھی سوچا نہیں ہوگا کہ ان کا بیٹا بڑا ہوکر اس ملک کا سربراہ بن جائے گا۔‘

مئی میں پارٹی کے لیڈر اور آئرلینڈ کے وزیرِ اعظم اینڈا کینی اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے جس کے بعد یہ انتخاب کروایا گیا۔

لیو ورادکر نے 60 فیصد ووٹ حاصل کر کے اپنے 44 سالہ حریف سمون کوونی کو شکست دی۔

ان کے پارٹی کے لیڈر بننے کا فیصلہ الیکٹرل کالج سسٹم کے ذریعے کیا گیا۔

لیو ورادکر موجودہ حکومت میں سماجی تحفظ کے وزیر ہیں۔

فینے گیل کے نئے لیڈر کو وزیر اعظم بننے کے لیے آزاد ممبران کی حمایت حاصل کرنی ہوگی اور کہا جا رہا ہے کہ ایسا اس ماہ کے آخر تک ممکن ہو سکے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption لیو ورادکر کی عمر صرف 38 برس ہے

لیو ورادکر کون ہیں؟

38 سالہ ورادکر آئرلینڈ کے دارالحکومت ڈبلن میں پیدا ہوئے تھے اور وہ ممبئی سے ترکِ وطن کر کے آئرلینڈ جا بسنے والے ڈاکٹر اشوک ورادکر کے صاحب زادے ہیں۔

اپنے والد کے نقشِ قدم پر چل کر انھوں نے بھی طب کی تعلیم حاصل کی اور سیاست میں آنے سے پہلے وہ پریکٹس کرتے رہے ہیں۔

وہ 2007 میں سیاست کے میدان میں آئے اور انھوں نے ڈبلن سے انتخاب میں کامیابی حاصل کی۔

'ہم جنس پرستی شخصیت کی ترجمانی نہیں کرتی'

انھوں نے 2015 میں ایک انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا تھا کہ وہ ہم جنس پرست ہیں۔ انھوں نے کہا تھا کہ وہ آئرلینڈ میں ہم جنس پرستوں کی شادی کے مسئلے پر ہونے والے ریفرینڈم سے قبل اپنا موقف واضح کر دینا چاہتے ہیں۔

انھوں نے کہا: 'میں لوگوں کے ساتھ کھری بات کرنا چاہتا ہوں۔ میں نہیں چاہتا کہ کوئی سمجھے کہ میرا کوئی خفیہ ایجنڈا ہے۔'

آئرش ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کچھ لوگوں کو اس کا علم ہے اور کچھ کو نہیں، لیکن یہ کوئی ایسی چیز نہیں جو میری شخصیت کی ترجمانی کرتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ 'اس سے فرق نہیں پڑتا کہ میں نصف انڈین سیاست دان ہوں، یا ڈاکٹر سیاست دان ہوں ہم جنس پرست سیاست دان۔'

انھوں نے کہا: 'یہ میری شخصیت کا حصہ ہیں، لیکن اس کی ترجمانی نہیں کرتے۔ یہ سب میرے کردار کا حصہ ہیں۔'

اس کے بعد ورادکر ایک اور تنازعے کا شکار ہوئے جب انھوں نے اعلان کیا کہ وہ لوگ جو فلاحی فراڈ کے مرتکب ہوتے ہیں انھیں شرمندہ کرنے کے لیے ان کے نام ایک سرکاری ویب سائٹ پر شائع کیے جائیں گے۔

وہ بریگزٹ کے مخالف ہیں۔ حال ہی میں ایک تقریر کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ 'شمال اور جنوب کے درمیان سرحدیں نہیں ہونی چاہییں۔'

اسی بارے میں