شمالی کوریا پر اقوام متحدہ کی ٹارگٹڈ پابندیاں

میزائل تجربہ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شمالی کوریا نے حالیہ ہفتوں کے دوران یکے بعد دیگرے کئی میزائل تجربات کیے ہیں

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے شمالی کوریا کے خلاف 'ٹارگٹڈ' پابندیوں میں توسیع کا اعلان کیا ہے۔

یہ پابندیاں پیانگ یانگ کی جانب سے رواں سال کیے جانے والے مختلف میزائل تجربات کے جواب میں عائد کی گئی ہیں۔

ان پابندیوں کے تحت چار اکائیوں اور 14 حکام کی املاک منجمد ہو جائیں گی اور ان کے بین الاقوامی سفر پر پابندی عائد ہو گی۔

’جوہری ہتھیاروں پر عالمی پابندی حقیقت پسندانہ نہیں‘

شمالی کوریا کا تین ہفتوں میں تیسرا میزائل تجربہ

ان 14 افراد میں شمالی کوریا کے بیرونی ممالک میں جاسوسی کے سربراہ چو ال یو بھی شامل ہیں۔

ان کے علاوہ اس فہرست میں شمالی کوریا کی ورکرز پارٹی کے سینیئر اہلکار اور پیانگ یانگ کے عسکری پروگرام کو فنڈ فراہم کرنے والی کمپنیوں کے سربراہان بھی شامل ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے امریکہ اور چین کے درمیان ہفتوں کی بات چیت کے بعد اتفاقِ رائے سے ان پابندیوں کی حمایت کی ہے۔

پیانگ یانگ نے اقوام متحدہ کی جانب سے تمام طرح کے جوہری اور میزائل تجربات پر پابندی والی قرارداد کی خلاف ورزی کی ہے۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے 15 ارکان نے تازہ پابندیوں والی قرارداد کی جمعے کو منظوری دی۔

سلامتی کونسل کی پابندیوں کی زد میں آنے والی اکائیوں میں شمالی کوریا کی سٹریٹیجک راکٹ فورس، کوریو بینک اور دو دیگر تجارتی کمپنیاں شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان نے بعض تجربات کی نگرانی بھی کی ہے

کوریو بینک ایک پارٹی کے دفتر سے منسلک ہے اور یہ شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان سمیت دیگر اعلیٰ عہدیداروں کے مالی معاملات کا نظم و نسق رکھتا ہے۔

پیانگ یانگ پہلے کے مقابلے کہیں زیادہ تیزی سے میزائل کے تجربات کر رہا ہے۔ اس کا موقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام دفاعی نوعیت کا ہے جس کا مقصد امریکی جارحیت کا جواب ہے۔

لیکن ماہرین کو خدشہ ہے کہ جس تیزی سے تجربات ہو رہے ہیں اس سے پیانگ یانگ کے امریکی براعظم کو نشانہ بنانے کے حتمی مقصد کی تکمیل ہو سکتی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کو اس کے جوہری پروگرام کے حوالے سے خبردار کر رکھا ہے۔

ان کا موقف ہے کہ امریکہ کا شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کے حوالے سے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔

واشنگٹن نے حال ہی میں اپنا طیارہ بردار جنگی بیڑہ کوریائی جزیرہ نما کے لیے روانہ کیا ہے۔

دریں اثنا امریکہ شمالی کوریا کے اتحادی چین سے بات چیت کر رہا ہے کہ وہ شمالی کوریا کی حکومت پر مزید دباؤ ڈالے۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے سنہ 2006 میں پہلی بار شمالی کوریا پر اس کے میزائل اور جوہری پروگرام کے جواب میں پابندیاں عائد کی تھیں اور وقت کے ساتھ اس میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں