جنوبی بحیرۂ چین پر امریکہ کا چین کو انتباہ

ساؤتھ چائنا سی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے متنبہ کیا ہے کہ امریکہ ساؤتھ چائنا سی یعنی جنوبی بحیرۂ چین کے مصنوعی جزائر پر چینی ملیٹریائزیشن کو قبول نہیں کرے گا۔

سنگاپور میں سلامتی سے متعلق ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس قسم کے اقدامات سے خطے کے استحکام کو نقصان پہنچے گا۔

قدرتی وسائل سے مالامال جنوبی بحیرۂ چین کے خطے میں چین کی دعوے داری کو کئی ممالک کی جانب سے چیلنج کا سامنا ہے۔

’امریکہ جنوبی بحیرہ چین کے مسئلے میں فریق نہیں‘

’خطرے کے نشان کو چھوتی ہوئی کشیدگی‘

ان کا یہ بیان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے شمالی کوریا پر عائد ٹارگٹڈ پابندیوں میں توسیع کے بعد سامنے آیا ہے۔

واضح رہے کہ سلامتی کونسل نے شمالی کوریا پر یہ پابندیاں رواں سال اس کی جانب سے کیے جانے والے پے در پے تجربات کے نتیجے میں عائد کی ہیں۔

شینگری لا ڈائیلاگ فورم کے سالانہ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے جنرل میٹس نے کہا: 'ہم مصنوعی جزائر کو فوجی سرگرمی کا اڈہ بنانے والے اور حد سے زیادہ آبی دعوے کرنے والے ممالک کی مخالفت کرتے ہیں۔

'ہم موجودہ یکطرفہ صورت حال میں جابرانہ تبدیلی کو نہ قبول کر سکتے ہیں نہ کریں گے۔'

صدر ٹرمپ اور دوسرے سینیئر امریکی اہلکاروں نے بار بار کہا کہ وہ جنوبی بحیرۂ چین میں اپنے مفادات کا تحفظ کریں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

اس سے پہلے امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے متنبہ کیا تھا کہ امریکہ چین کو واضح پیغام دے کہ وہ جزیرہ بنانا بند کرے اور یہ کہ ان جزائر پر انھیں رسائی کی اجازت نہیں ہوگی۔

اس کے جواب میں چین کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ بیجنگ خطے میں اپنے حقوق کے دفاع میں اٹل ہے۔

سنگاپور میں جنرل میٹس نے امریکہ اور چین کے رشتے کے مثبت پہلو پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جب تک دونوں ممالک کے درمیان مقابلہ جاری رہے گا ایسا ہوتا رہے گا اور تصادم ناگزیر نہیں ہے۔

بی بی سی کی کرشما واسوانی کا کہنا ہے کہ کانفرنس میں موجود ایشیائی مندوبین کے سامنے بڑا سوال یہ تھا کہ امریکہ اس کشیدہ خطے میں کتنا رول ادا کرتا رہے گا۔

انھوں نے مزید کہا کہ جنرل میٹس نے اپنے ہم منصبوں کو اس بات کی پھر سے یقین دہانی کرائي ہے کہ امریکہ ایشیا سے جانے والا نہیں ہے۔

خیال رہے کہ جنوبی بحیرۂ چین پر مختلف ممالک کے دعوے ہیں جن میں تائیوان، چین، ویتنام، فلپائن، ملائیشیا اور برونائی شامل ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں